Karachi Petrol Pumps Strike Fuel Price Hike

6 روز میں پیٹرول 63 روپے مہنگا: کراچی میں 70 فیصد پمپ بند، دفاتر اور نوکریوں پر جانے والے رُل گئے!

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے نئے نظام نے عوام اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ محض چھ دنوں کے مختصر عرصے میں ڈیزل اور پیٹرول کی مجموعی قیمتوں میں 63 روپے سے زائد کا تباہ کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عوام اور بزنس کمیونٹی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مسلسل تیسرے روز بھی عالمی منڈی کا بہانہ بنا کر نرخوں میں بڑا اضافہ کیا گیا، جس سے ڈیزل محض تین دنوں کے اندر 354.35 روپے سے چھلانگ لگا کر 375.04 روپے فی لیٹر کی تاریخی سطح پر جا پہنچا، جبکہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 11.32 روپے کے مجموعی اضافے کے بعد 327.12 روپے تک پہنچ چکی ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کے ریٹس بدلنے کی اس متنازع پالیسی کے خلاف پیٹرولیم ڈیلرز اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کے باعث کراچی شہر بھر کے تقریباً 70 فیصد سے زائد پیٹرول پمپس مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ صبح سویرے دفاتر، ڈیوٹیوں، اسکولوں اور روزمرہ روزگار کے لیے نکلنے والے شہریوں، طلباء اور محنت کشوں کو ایندھن نہ ملنے کے باعث شدید مشکلات اور خوار خرابی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ غائب ہونے اور پمپوں پر گاڑیوں کی کلومیٹر طویل قطاریں لگنے سے تجارتی و معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور شہریوں کی جانب سے اس بحران کا فوری حل نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

شماریاتی اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو نئے روزانہ pricing فریم ورک کے نافذ ہوتے ہی صرف تین دنوں میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 20.69 پیسے کا بڑا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کی جانے والی بڑھوتری کو ملا کر صرف چھ ایام میں ڈیزل مجموعی طور پر 52.19 روپے اور پیٹرول 11.32 روپے مہنگا کیا جا چکا ہے۔ عوامی اور کاروباری حلقوں نے حکومت سے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کو مفلوج اور عوام کو زندہ درگور کرنے والی اس روزانہ کی ایندھن قیمت پالیسی کو فوری منسوخ کیا جائے اور ہڑتال پر بیٹھے ڈیلرز سے سائنسی اور پائیدار بنیادوں پر مذاکرات کر کے ملک میں جاری اس ایندھن بحران کا خاندانی حل نکالا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں