افغانستان: بھارتی سفارت کاری کا ادھورا امتحان

کبھی یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ کابل میں سفارت خانہ کھول دینا، چند اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کر لینا اور امدادی سامان کے چند قافلے بھیج دینا افغانستان کے زخموں پر مرہم رکھ دیں گے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ریاستیں تصویروں، بیانات اور سفارتی مصافحوں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، مؤثر حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے کھڑی ہوتی ہیں۔ تقریباً چار برس گزر چکے ہیں، لیکن افغانستان اب بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی بے یقینی، معاشی زبوں حالی اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اب خود بھارت کے پالیسی ساز بھی آہستہ آہستہ خوش فہمیوں کے خول سے باہر نکلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نئی دہلی کے تھنک ٹینکس اور اسٹریٹجک حلقے کھلے لفظوں میں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کابل کے ساتھ مسلسل رابطوں سے حاصل کیا ہوا؟ حکمرانی آج بھی کمزور ہے، معیشت سانس لینے کے لیے بیرونی امداد کی محتاج ہے، انسانی حقوق کے سوال بدستور موجود ہیں اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں۔ گویا برسوں کی سفارت کاری کے بعد بھی کشتی وہیں کی وہیں کھڑی ہے، صرف چپو بدلتے رہے ہیں۔
یہ صورتحال بھارت کے لیے بھی کسی تلخ حقیقت سے کم نہیں۔ دو دہائیوں تک اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، اسپتال، تعلیمی ادارے اور سفارتی سرمایہ کاری اس امید پر کی گئی کہ افغانستان ایک قابل اعتماد شراکت دار بنے گا۔ طالبان کی واپسی کے بعد نئی دہلی نے حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کیا، سفارتی مشن دوبارہ فعال کیا، انسانی امداد بھی جاری رکھی، مگر رسمی روابط قائم رکھنے اور زمینی حقیقت بدلنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سفارت کاری دروازہ کھول سکتی ہے، مگر اس دروازے کے پیچھے اگر ریاستی ادارے ہی موجود نہ ہوں تو اندر داخل ہونے سے بھی زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر علاقائی طاقتیں نظرانداز کر دیتی ہیں۔ اثر و رسوخ خریدنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اعتماد پیدا کرنا نہیں۔ افغانستان میں گزشتہ چار برسوں نے یہ سبق بار بار دہرایا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری یا سفارتی موجودگی اس وقت تک محدود نتائج دیتی ہے جب تک مقامی ادارے اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہوں۔ جس گھر کی بنیاد کمزور ہو، وہاں خوبصورت پردے لگانے سے عمارت محفوظ نہیں ہو جاتی۔
پاکستان کے لیے یہ بحث کسی علمی سیمینار یا خارجہ پالیسی کے مقالے کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ حقیقت ہے۔ سرحد پار عدم استحکام نے پاکستان کو برسوں تک مہاجرین کے بوجھ، دہشت گردی، اسمگلنگ، سرحدی کشیدگی اور معاشی دباؤ کا سامنا کروایا ہے۔ جغرافیہ بعض اوقات نعمت بنتا ہے اور بعض اوقات آزمائش۔ پاکستان کے حصے میں افغانستان کے معاملے میں دونوں ایک ساتھ آئے ہیں۔
اسی لیے اسلام آباد کا مؤقف ہمیشہ نسبتاً واضح رہا ہے کہ افغانستان کا امن صرف افغان عوام ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ لیکن امن صرف اس وقت پائیدار ہو سکتا ہے جب افغان سرزمین کسی بھی شدت پسند گروہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ یہ مطالبہ کسی سفارتی ضد کا اظہار نہیں بلکہ ان تلخ تجربات کا نتیجہ ہے جن کی قیمت پاکستان نے ہزاروں جانوں اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کی صورت میں ادا کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلسل اس تصور کی حمایت کرتا آیا ہے کہ افغانستان کو جنگوں کے میدان سے تجارت کی راہداری میں تبدیل ہونا چاہیے۔ اگر حالات سازگار ہوں تو یہی سرزمین جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والا اقتصادی پل بن سکتی ہے۔ تجارت کی شاہراہیں کھلیں، توانائی کے منصوبے آگے بڑھیں اور سرمایہ کاری آئے تو شاید وہ خوشحالی بھی آئے جس کے وعدے کئی دہائیوں سے کیے جا رہے ہیں۔ آخر بندوقیں کبھی منڈی نہیں بناتیں، بازار ہمیشہ امن مانگتے ہیں۔
گزشتہ چار برسوں نے ایک اور حقیقت بھی بے نقاب کی ہے۔ جغرافیائی سیاست کی شطرنج میں بڑی طاقتیں اکثر اپنی اپنی چالیں چلتی رہتی ہیں، مگر مہرے ہمیشہ عام لوگ بنتے ہیں۔ عالمی طاقتوں کے بیانات بدلتے رہتے ہیں، سفارتی وفود آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن اگر ایک عام افغان شہری کو روزگار، تعلیم، علاج اور تحفظ میسر نہ ہو تو یہ ساری سرگرمیاں اس کے لیے محض دور کی گھنٹی ثابت ہوتی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اب یہی حقیقت بھارت کے اندر بھی تسلیم کی جانے لگی ہے۔ وہاں کے ماہرین بھی ماننے لگے ہیں کہ کابل تک رسائی اور کابل پر اثر و رسوخ دو مختلف چیزیں ہیں۔ سفارت خانہ کھول لینا آسان ہے، ریاست کھڑی کرنا نہیں۔ یہ فرق جتنا جلد سمجھ لیا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔
افغانستان آج بھی جنوبی ایشیا کے امن کی کنجی ہے، مگر اس کنجی سے دروازہ تبھی کھلے گا جب اس کے ساتھ مضبوط ادارے، جوابدہ حکمرانی اور پائیدار معیشت بھی موجود ہو۔ ورنہ خطے کی طاقتیں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی دوڑ میں مصروف رہیں گی، جبکہ افغانستان وہیں کھڑا رہے گا جہاں برسوں پہلے تھا۔ آخرکار، تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ قومیں دوسروں کے سہارے نہیں، اپنے اداروں کے بل بوتے پر کھڑی ہوتی ہیں، اور سفارت کاری تبھی ثمر آور ہوتی ہے جب اس کے پیچھے ایک مضبوط ریاست موجود ہو، محض ایک مضبوط بیانیہ نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں