
جب شہریوں کی دہائی ملکی نظام کے لیے ایک امتحان بن جائے بابرلو کی سڑکوں سے شروع ہونے والی وہ سسکیاں، جو اپنے معصوم جگر گوشوں کی واپسی کی منتظر تھیں، اب پورے سندھ کے لیے ایک ایسا سوالیہ نشان بن چکی ہیں جس کا جواب دینے سے مقتدر حلقے قاصر نظر آتے ہیں۔ اغوا کاروں کے چنگل سے بچوں کی بازیابی کے لیے اٹھنے والی اس تحریک کو جب بھی پولیس اور مقامی انتظامیہ نے تسلیوں اور جھوٹے وعدوں کی لولی پاپ دینے کی کوشش کی، تو ہر بار متاثرہ خاندانوں کے ہاتھ صرف مایوسی ہی آئی۔ بار بار دی جانے والی ناکام مہلتوں نے بالآخر ان دکھی ماں باپ کا صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا، جس کا نتیجہ آج کراچی کے تین تلوار، حیدرآباد کے وادھو واہ، کامو شہید، ڈیرہ موڑ اور کنڈیارو کی شاہراہوں پر دھرنوں کی صورت میں پوری قوم کے سامنے ہے۔ احتجاج کا یہ پھیلاؤ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ جب عام آدمی کے لیے انصاف کے تمام روایتی راستے بند کر دیے جائیں، تو وہ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے خود سڑکوں پر نکلنے کو اپنا آخری سہارا سمجھتا ہے۔ مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کی تصاویر سینے سے لگائے سرد راتیں کھلے آسمان تلے گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کی یہ حالت زار پورے انتظامی ڈھانچے کی بے حسی کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اس پورے بحران کے تانے بانے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ نااہلی اور جوابدہی سے عاری نظام سے جا ملتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بچوں کا اغوا روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہو، وہاں ریاستی اداروں کا روایتی سستی کا مظاہرہ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا انسانی سانحہ جنم لیتا ہے، تو کچھ دنوں کے لیے شور مچایا جاتا ہے، تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ فائلیں سرکاری الماریوں کی دھول میں دفن ہو جاتی ہیں۔ ان دھرنوں کی وجہ سے شاہراہوں کی بندش بلاشبہ ایک عام شہری کی آمد و رفت کو متاثر کرتی ہے، مگر اس کا سارا ملبہ احتجاج کرنے والوں پر ڈالنا دراصل اصل مجرموں کو بچانے کے مترادف ہے۔ اس عوامی غصے کی بنیادیں اس انتظامی غفلت میں پیوست ہیں جس نے مظلوموں کی چیخ و پکار پر بروقت کان دھرنے کے بجائے بیوروکریسی کے بند کمروں کو ترجیح دی۔ سندھ کی سڑکوں پر پھیلی ہوئی یہ بے چینی کسی امن و امان کے عارضی مسئلے سے کہیں بڑھ کر اس گلے سڑے نظام کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے جو کمزور کو تحفظ دینے میں مستقل ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ کچے کے ان جرائم پیشہ گروہوں اور اغوا کاروں کی کارروائیاں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہیں، بلکہ یہ نیٹ ورک ہمارے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی کمزوریوں کے سہارے ہی پروان چڑھتے ہیں۔ شمالی سندھ کا جغرافیہ اور وہاں کی جاگیردارانہ سیاست ڈاکوؤں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں، جہاں انہیں مبینہ طور پر مقامی بااثر شخصیات اور وڈیروں کی مکمل سرپرستی حاصل رہتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیکیورٹی ادارے ان ڈاکوؤں کے خلاف کسی فیصلہ کن آپریشن کا ارادہ کرتے ہیں، تو پس پردہ متحرک مصلحت پسند قوتیں متحرک ہو کر پورے عمل کو ادھورا چھڑوا دیتی ہیں۔ اس پورے بحران کے دوران صوبے کی مرکزی سیاسی قیادت کی پراسرار خاموشی کئی سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ عوامی ہمدردی کا راگ الاپنے والے یہ سیاست دان آج ان سسکتے ہوئے خاندانوں کی طرف مڑ کر دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، کیونکہ ان کی یہ خاموشی دراصل اس مجرمانہ گٹھ جوڑ کو بچانے کی ایک دانستہ کوشش ہے جس کی قیمت معصوم بچوں کے بچپن کو تاوان کی شکل میں ادا کر کے چکانی پڑ رہی ہے۔ جب تک کچے کے ڈاکوؤں کو اپنے ڈیروں پر پناہ دینے والے بااثر چہروں کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جائے گا، تب تک سندھ کا یہ کینسر ختم ہونا ناممکن ہے۔ اندرونی محاذ پر پیدا ہونے والے ایسے شدید اضطراب کا جب گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو ملکی سلامتی سے جڑے بیرونی خطرات کو نظرانداز کرنا سنگین بھول ہوگی۔ جب کوئی ریاست اپنے اندرونی معاملات کو سنبھالنے میں کمزوری دکھاتی ہے، تو بیرونی پروپیگنڈا مشینری کے لیے تماشے اور منفی بیانیے کا سامان خود بخود تیار ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے اس مخدوش اندرونی امن و امان کو سرحد پار بیٹھی ایجنسیاں اور میڈیا ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا بھیانک ریکارڈ اور منی پور میں جاری بدترین نسلی تصادم خود بھارتی جمہوریت کے چہرے کو دنیا بھر میں داغدار کر چکے ہیں، لیکن ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے دشمن کو ایسا کوئی موقع ہی کیوں فراہم کریں جہاں وہ ہماری اندرونی خامیوں کو ہتھیار بنا کر پیش کرے۔ اپنی انتظامی خامیوں کو دور کرنا اور شہریوں کو گھر کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہی بیرونی پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر اور دندان شکن جواب ہے۔ آئین پاکستان نے ہر شہری کو پرامن احتجاج اور مقتدر حلقوں سے جواب طلبی کا جو حق تفویض کیا ہے، وہ اسے بہت سے جابرانہ معاشروں سے ممتاز کرتا ہے۔ تاہم، اس حق کے استعمال کے دوران قومی مفاد اور روزمرہ کی زندگی میں پسنے والے عام شہریوں کی مشکلات کا ادراک رکھنا بھی مظاہرین کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ شاہراہوں کی طویل بندش سے جہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے غریب طبقے کا معاشی قتل ہوتا ہے، وہاں ملکی معیشت کی شہ رگ کو بھی گہرا دھچکا پہنچتا ہے۔ مظاہرین کو چاہیے کہ وہ اپنے اس جائز احتجاج کو پرامن اور زیادہ منظم دائرے میں رکھیں، تاکہ ان کی اخلاقی برتری برقرار رہے اور دشمن عناصر کو اس انسانی مسئلے پر سیاست چمکانے کا کوئی موقع نہ ملے۔
متبادل طریقوں جیسے پریس کلبوں کے باہر منظم اجتماعات اور سول سوسائٹی کو ساتھ ملا کر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کو بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے تاکہ عام شہریوں کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی بات منوائی جا سکے۔ بحران اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید مصلحت پسندی یا ٹال مٹول کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ ملکی سیکیورٹی اور وفاقی اداروں کو اب اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ان تمام ضلعی پولیس افسران اور تفتیشی اہلکاروں کا کڑا محاسبہ کیا جائے جن کی نااہلی کی وجہ سے یہ معاملہ اس حد تک سنگین ہوا۔ کچے کے ان جنگلاتی اور دریا برد علاقوں میں اب ایک ایسا مربوط اور شفاف آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے جو محض کٹھ پتلی ڈاکوؤں کے خاتمے تک محدود نہ رہے، بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والے بڑے سیاسی اور جاگیردارانہ چہروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ ریاست کو اب اپنی رٹ کا عملی اثبات کرنا ہوگا کیونکہ جب تک عام شہری کا یہ یقین بحال نہیں ہوتا کہ اس کے بچوں کے تحفظ کی ذمہ دار ریاست ہے، تب تک ملکی استحکام اور ترقی کا ہر دعویٰ بے معنی رہے گا۔
