کراچی: روشنیوں کے شہر کو اندھیرے میں کس نے ڈبویا؟

“لاہور آج کراچی سے پچاس سال آگے نکل چکا ہے”۔ یہ الفاظ وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہے، اور انہی الفاظ میں اس شہر کے ساتھ ہونے والی تین دہائیوں کی زیادتی کا نچوڑ چھپا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ شہر واقعی پچاس سال پیچھے رہ گیا ہے، تو اس پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے؟ جواب کسی ایک جماعت میں نہیں، دو ہاتھوں میں بٹا ہوا ہے، اور دونوں ہی اس کٹہرے میں کھڑے ہونے کے مستحق ہیں۔

پہلا ہاتھ خود ایم کیو ایم کا ہے۔ 1988 سے 2013 تک کراچی پر جس جماعت کا سب سے مضبوط اثر رہا، وہ یہی جماعت تھی۔ 1992 میں شروع ہونے والا فوجی آپریشن اس شہر کی تاریخ کا وہ باب ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا، لائنز ایریا، لانڈھی کورنگی، سعید آباد اور لیاقت آباد جیسے گنجان آباد علاقے نو گو ایریاز بن گئے، اور یہ دور آج بھی کراچی کی تاریخ میں سب سے زیادہ خونریزی کے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے سنگین الزامات ایم کیو ایم کے کارکنوں پر عائد ہوتے رہے، سرکاری ملازمین سے لے کر انسدادِ تجاوزات کے افسران تک، جو بھی راستے میں آیا، نشانہ بنا۔ پارکوں پر قبضے ہوئے، نالوں پر گھر تعمیر ہو گئے، اور شہر کا وہ حسن جو کبھی “روشنیوں کا شہر” کہلاتا تھا، خوف کی گلیوں میں بدل گیا۔

یہ خوف اتنا گہرا تھا کہ تاجر اپنی دکانیں وقت سے پہلے بند کرنے لگے، والدین اپنے بچوں کو شام ڈھلے گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتے تھے، اور کئی محلے ایسے تھے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ 2013 میں جب رینجرز کی قیادت میں باقاعدہ آپریشن شروع ہوا، تب کہیں جا کر اس شہر نے کچھ سکھ کا سانس لیا اور جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی، مگر یہ سکون بھی اتنی دیر سے آیا کہ اس وقت تک کراچی اپنی کئی دہائیوں کی رونق اور سرمایہ کاری گنوا چکا تھا۔ اپنے پچیس سالہ اقتدار کے دوران جس جماعت کو یہ موقع ملا کہ وہ شہر کو امن اور بنیادی سہولیات دے، اس نے خوف اور بربادی کے سوا کچھ نہ دیا۔

دوسرا ہاتھ پیپلز پارٹی کا ہے، جسے جب سے سندھ کی حکمرانی ملی، وہ بھی اسی تباہی کے سلسلے کو آگے بڑھاتی رہی، بس طریقہ بدل گیا۔ خوف کی جگہ لاپرواہی نے لے لی۔ مصطفیٰ کمال نے 13 جولائی کو بہادر آباد میں کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کو رواں مالی سال 2,263 ارب روپے، جبکہ گزشتہ اٹھارہ برسوں میں مجموعی طور پر تقریباً 22 ہزار ارب روپے مل چکے ہیں، مگر اس کے باوجود کراچی اور حیدرآباد کے شہری مسائل جوں کے توں ہیں۔ عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے بھی ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کراچی ناقابلِ رہائش شہروں میں تیسرے نمبر پر آ چکا ہے، اور یونیورسٹی روڈ جیسی اہم شاہراہ برسوں سے تعمیر کے نام پر کھدی پڑی ہے، جسے انہوں نے صوبائی حکومت کی کرپشن اور نااہلی کی مثال قرار دیا۔ خود مصطفیٰ کمال نے لیاقت آباد کے جلسے میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ سندھ میں لاقانونیت کے باعث بچے گٹروں میں گر کر جان سے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور دعوے اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ اتنی خطیر رقم کے باوجود شہری بنیادی سہولیات میں خاطر خواہ بہتری کیوں نہیں آ سکی۔

یوں کراچی ایک ایسے شہر کی مثال بن گیا جسے پہلے خوف نے کچلا، پھر لاپرواہی نے دفن کیا۔ جس دور میں امن کا نام لیا گیا، وہاں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ نے راج کیا۔ جس دور میں ترقی کے وعدے کیے گئے، وہاں سڑکیں کھنڈر بن گئیں اور بارشوں کے دوران کھلے مین ہولز اور ناقص نکاسیٔ آب متعدد انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بنتے رہے۔ ایک طرف وہ سیاست تھی جس نے شہر کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے رکھا، دوسری طرف وہ حکمرانی ہے جس نے وسائل کے انبار کے باوجود شہر کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔

آج جب مصطفیٰ کمال حقوق کی بات کرتے ہیں، تو یہ آواز بجا سہی، لیکن عوام کا حافظہ اتنا کمزور نہیں کہ ماضی کے زخم بھول جائے۔ جو جماعت آج پیپلز پارٹی سے حساب مانگتی ہے، اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس کے اپنے دورِ اقتدار میں شہر کو خوف کے سوا کیا ملا۔ یہ شہر کسی جماعت کی میراث نہیں، یہ لاکھوں انسانوں کا گھر ہے، اور جب تک احتساب دونوں طرف یکساں طور پر نہیں ہوتا، یہ پچاس سال کا فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں