تحریر : علیزہ عابد عارفین
جمہوریت صرف ووٹ لینے کا نام نہیں، بلکہ ووٹ کا حساب دینے کا نام بھی ہے۔ اقتدار چند ماہ یا چند سال کے لیے ہو تو عوام صبر کرتے ہیں، امید رکھتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔ لیکن جب ایک سیاسی جماعت یا حکومت برسوں تک اقتدار میں رہے، تو پھر سوالات بھی بڑے ہوتے ہیں اور جوابدہی کی ذمہ داری بھی۔ آج کراچی کے شہری یہی سوال پوچھ رہے ہیں۔ اگر گزشتہ برسوں میں کھربوں روپے کے بجٹ منظور ہوئے، اگر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بے شمار اعلانات کیے گئے، اگر ہر سال عوام کو یقین دلایا گیا کہ شہر بدلنے والا ہے، تو پھر وہ تبدیلی کہاں ہے؟ آخر وہ کون سا کراچی ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ یہ سوال سیاست کا نہیں، عوام کا ہے۔ یہ سوال کسی جماعت کی مخالفت نہیں، بلکہ ان لاکھوں شہریوں کی آواز ہے جو ہر صبح پانی کی تلاش میں جاگتے ہیں، ہر بارش کے بعد ڈوبتی ہوئی سڑکوں پر سفر کرتے ہیں، روزانہ گھنٹوں ٹریفک میں اپنی زندگی ضائع کرتے ہیں، اور ہر سال نئے بجٹ کے ساتھ پرانے وعدے دوبارہ سنتے ہیں۔ اصل سوال رقم کا نہیں، نتیجے کا ہے۔ اگر واقعی کھربوں روپے عوامی ترقی کے لیے مختص کیے گئے، تو اس کے ثمرات کہاں ہیں؟ ترقی کی پیمائش بجٹ کی موٹی کتابوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ کیا ایک عام شہری کی زندگی آسان ہوئی؟ کیا اسے صاف پانی ملا؟ کیا اس کی گلی محفوظ ہوئی؟ کیا اس کے بچے بہتر اسکول پہنچ سکے؟ کیا اسے معیاری پبلک ٹرانسپورٹ میسر آئی؟ کیا ہر بارش کے بعد اس کا گھر پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہا؟ اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں، تو پھر عوام کو یہ پوچھنے کا پورا حق حاصل ہے کہ آخر اتنی بڑی رقوم کہاں خرچ ہوئیں؟ حکومتیں اکثر مختص شدہ بجٹ کی بڑی بڑی تعداد پیش کرتی ہیں۔ ارب، کھرب اور ترقیاتی پیکجز سننے میں متاثر کن لگتے ہیں۔ لیکن عوام کے لیے اعداد و شمار کی اہمیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب ان کی روزمرہ زندگی میں کوئی بہتری نظر نہ آئے۔ شہری کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ بجٹ کا حجم کتنا تھا؛ اسے فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ اس کے گھر میں پانی آیا یا نہیں، اس کی سڑک بنی یا نہیں، اس کے علاقے کا سیوریج نظام درست ہوا یا نہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر بجٹ عوام کے ٹیکس سے بنتا ہے، اور ہر قرض بھی آخرکار عوام ہی ادا کرتے ہیں۔ اگر سرکاری اخراجات بھی بڑھتے جائیں اور قرضوں کا بوجھ بھی مسلسل اضافہ پاتا رہے، تو پھر عوام یہ سوال کیوں نہ کریں کہ آخر ان کے پیسے سے انہیں ملا کیا؟ ریاستی وسائل حکومت کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے۔ یہ عوام کی امانت ہوتے ہیں، اور امانت کا پہلا اصول جوابدہی ہے۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہ شہر قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے، مگر بدقسمتی سے بنیادی شہری سہولیات کے معاملے میں اکثر خود کو نظرانداز محسوس کرتا ہے۔ پانی کی قلت اب ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ نکاسیٔ آب کا نظام ہر مون سون میں اپنی ناکامی کا اعلان کر دیتا ہے۔ ٹریفک کا بحران معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ شہریوں کی ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اب بھی شہر کی آبادی کی ضروریات سے بہت پیچھے ہے۔ کچرے کے ڈھیر، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ناقص بلدیاتی نظام ایک ایسے شہر کی تصویر پیش کرتے ہیں جو اپنی صلاحیت سے کہیں کم پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں۔ دنیا کے ہر بڑے شہر کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ برسوں کے اقتدار، مسلسل بجٹ، متعدد ترقیاتی منصوبوں اور بار بار کیے گئے وعدوں کے باوجود یہ مسائل آج بھی تقریباً وہیں کیوں کھڑے ہیں؟ عوام اب اعلانات سے زیادہ شواہد چاہتے ہیں۔ انہیں منصوبوں کی افتتاحی تقریبات نہیں بلکہ مکمل ہونے والی اسکیموں کی آزادانہ جانچ چاہیے۔ انہیں اشتہارات نہیں بلکہ نتائج چاہیے۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ کس منصوبے پر کتنی رقم خرچ ہوئی، وہ منصوبہ کب مکمل ہوا، اس سے کتنے لوگ مستفید ہوئے، اور اگر منصوبہ مکمل نہیں ہوا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ یہ سوالات کسی حکومت کو کمزور نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، یہی سوالات جمہوریت کو مضبوط بناتے ہیں۔ جو حکومت اپنی کارکردگی پر یقین رکھتی ہو، وہ احتساب سے نہیں گھبراتی بلکہ اسے اپنی کامیابی ثابت کرنے کا موقع سمجھتی ہے۔ شفافیت، آزاد آڈٹ، عوامی معلومات تک رسائی اور واضح اعداد و شمار ہی وہ راستہ ہیں جن سے عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ آج کراچی کو نئے وعدوں سے زیادہ پرانے وعدوں کا حساب چاہیے۔ شہر کو مزید نعروں کی نہیں، مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اسے سیاسی الزام تراشی نہیں، قابلِ پیمائش نتائج درکار ہیں۔ کیونکہ شہری اب یہ نہیں پوچھ رہے کہ اگلے پانچ سال میں کیا ہوگا؛ وہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ گزشتہ کئی برسوں میں کیا ہوا؟ تاریخ حکومتوں کو ان کے نعروں سے نہیں، ان کے نتائج سے یاد رکھتی ہے۔ بجٹ کی موٹی کتابیں، رنگین اشتہارات اور ترقی کے بلند بانگ دعوے وقت کے ساتھ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں، لیکن ایک شہری کے گھر میں آنے والا صاف پانی، محفوظ سڑک، بہتر ٹرانسپورٹ، مؤثر بلدیاتی نظام اور باوقار معیارِ زندگی ہمیشہ حکومت کی اصل کارکردگی کا پیمانہ رہتے ہیں۔ کراچی کے عوام کسی معجزے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کا حساب دیا جائے، ان کے نام پر لیے گئے قرضوں کی تفصیل سامنے آئے، اور انہیں یہ بتایا جائے کہ کھربوں روپے کی سرکاری رقوم نے آخر ان کی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی۔ کیونکہ جمہوریت میں سب سے طاقتور سوال یہی ہوتا ہے: عوام کے پیسے سے عوام کو آخر ملا کیا؟
