
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دہلی کے تخت پر بیٹھے حکمران اپنے ملک کے اندرونی بحرانوں، گرتی ہوئی معیشت، فاشسٹ ظلم و ستم اور عوام کے بڑھتے ہوئے غصے کو چھپانے میں ناکام ہوتے ہیں، تو وہ اپنی شکست خوردہ توجہ کو ہٹانے کے لیے پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے امن کو نقصان پہنچانے کے گھناؤنے ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر ہندوستان کی یہ ہندوتوا سرکار یہ بھول جاتی ہے کہ جھوٹ اور پراکسی وار کی یہ دیواریں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں، بالخصوص اس وقت جب ان کا واسطہ ایک ایسی بیدار ریاست اور عسکری بصیرت سے ہو جو انہیں ہر محاذ پر عبرت ناک شکست سے دوچار کر چکی ہو۔
ذرا اس تاریخی حقیقت کا جائزہ لیں کہ علاقائی امن اور خطے میں بالادستی کے دعوے کرنے والے ہندوستان کا اصل چہرہ کیا ہے۔ دہلی کی یہ سرکار کتنی ہی بڑی بڑی باتیں کر لے، مگر دنیا اس تاریخی دن کو کبھی نہیں بھول سکتی جب آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ہندوستانی عسکری گھمنڈ کو خاک میں ملا دیا گیا تھا۔ وہ دن کون بھول سکتا ہے جب مودی سرکار کے جنگی جنون اور اسٹوڈیو سرکس کو پاکستانی شاہینوں نے ہوش ٹھکانے لگاتے ہوئے ایسا عبرت ناک سبق سکھایا کہ ان کے جدید طیارے اور فرضی دعوے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ جب میدانِ جنگ میں منہ کی کھانی پڑی اور دنیا کے سامنے سبز ہلالی پرچم کے آگے ان کا غرور ٹوٹ گیا، تب سے لے کر آج تک ہندوستان براہِ راست جنگ کرنے کی جرأت کھو بیٹھا ہے۔
اب شکست خوردہ ہندوستان نے بزدلانہ ہتھکنڈوں کا سہارا لیتے ہوئے پراکسی وار اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے ذریعے تخریب کاری کا راستہ چنا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے پرامن خطے میں حالیہ فتنہ انگیز اور پرتشدد سرگرمیاں کوئی اچانک رونما ہونے والے واقعات نہیں ہیں؛ یہ اسی ہندوستانی پروپیگنڈا وار اور انفارمیشن مہم کا تسلسل ہیں جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اربوں روپے جھونک رہی ہے۔ کلبھوشن یادیو کا نیٹ ورک ہو یا بھارتی ریاست کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد اور فنڈڈ پراکسی نیٹ ورکس، ان کے تمام شواہد (Dossiers) اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہلی کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی ترقی اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔
ہندوستان کا علاقائی امن کے حوالے سے کردار اب صفر ہو چکا ہے۔ ایک طرف وہ خود کو دنیا کا امن پسند ظاہر کرتا ہے، اور دوسری طرف اس کی ریاستی مشینری سرحد پار دہشت گردی، جعلی فنانسنگ، اور پروپیگنڈے کے ذریعے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششیں کرتی ہے۔ جب بھی کوئی نادان عناصر آئینی اور جمہوری دائرے سے نکل کر تشدد کا راستہ اپناتے ہیں، تو وہ نادانستہ طور پر اسی دہلی کے پراکسی ایجنڈے کا آلہ کار بن جاتے ہیں جو کشمیر کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔
مگر آج کا باشعور کشمیری اور پاکستانی شہری پوری طرح بیدار ہے۔ ہندوستان کی یہ تمام سازشیں، جو وہ اپنے اندرونی زوال، پریس فریڈم کے زوال (جہاں وہ 157 ویں نمبر پر آ چکا ہے)، اور اقلیتوں پر ظلم کو چھپانے کے لیے بنتا ہے، ہر بار ناکام ہوتی ہیں۔ پاکستان نے اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود جس جرأت اور ادارہ جاتی لچک کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے دشمن کے ہر عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، دشمن کی ان پراکسی چالوں کو سمجھیں، اور اپنے سیاسی حقوق کے لیے صرف آئینی و پرامن راستوں کا انتخاب کریں۔ ہندوستان جتنی چاہے سازشیں کر لے، آپریشن بنیان مرصوص کی وہ ذلت اس کا مقدر ہمیشہ رہے گی، اور آزاد کشمیر کا امن کسی بھی ہندوستانی پراکسی کے ہاتھوں پامال ہونے نہیں دیا جائے گا!
