A sleek visual graphic representing highway barricades and a protest megaphone without text

پٹرولیم لیوی کا بم، مہنگائی کا طوفان اور ملک گیر جام: آج جماعت اسلامی شہر شہر دھرنے دے گی، کراچی کا تفصیلی ٹریفک پلان اور متبادل راستے جاری!

جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف آج ملک بھر میں 510 اہم ترین مقامات پر دھرنے دینے اور سڑکیں بلاک کرنے کا حتمی اعلان کر دیا گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اپنے ہنگامی ویڈیو بیان میں واضح کیا کہ کراچی، اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد اور راولپنڈی سمیت تمام بڑے شہروں میں زبردست احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران ملک کی مرکزی شاہراہیں مکمل طور پر بند رہیں گی، تاہم صرف ایمبولینسز کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور ظالمانہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر آج ملک بھر میں احتجاجی طوفان برپا ہونے جا رہا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، اور اب حالیہ ہفتے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں آج 510 سے زائد اہم مقامات پر دھرنے اور شٹر ڈاؤن احتجاج ریکارڈ کرائے جائیں گے۔

📊 پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں (گزشتہ ایک ہفتے کی صورتحال)
حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں اضافے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے سے مارکیٹ میں عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ موجودہ قیمتیں کچھ یوں ہیں:
🔹 پٹرول کی قیمت: عوام کو شدید مہنگائی کے ساتھ فی لیٹر بلند ترین نرخوں پر دستیاب ہے۔
🔹 ہائی اسپیڈ ڈیزل: ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کا سبب بن چکا ہے۔
🔹 پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز: فی لیٹر قیمت کا بڑا حصہ ٹیکسز اور لیوی کی مد میں وصول کیا جا रहा ہے جس نے مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

🚨 ملک گیر احتجاج اور کراچی کا جامع ٹریفک پلان (متبادل راستے)
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اپنے ہنگامی بیان میں واضح کیا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں مرکزی شاہراہیں بلاک ہوں گی۔ کراچی کے شہریوں کے لیے مشکلات سے بچنے اور ٹریفک جام سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی ٹریفک ایڈوزاری اور متبادل روٹس جاری کر دیے گئے ہیں:

🛑 بند رہنے والی اہم شاہراہیں اور مقامات (شام 4 بجے سے شروع ہونے والے قافلے)
شاہراہِ پاکستان: عائشہ منزل اور سہراب گڑھ کے اطراف کا علاقہ۔

حب روڈ اور شیر شاہ: صنعتی علاقوں اور حب ریور روڈ پر ہیوی ٹریفک کا بلاک۔

نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے: ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے راستے۔

اورنگی اور کورنگی روڈ: مقامی آبادیوں کے بڑے راستے۔

مزارِ قائد اور شارع فیصل: تمام شہر سے نکلنے والے مرکزی قافلے مزارِ قائد پر جمع ہوں گے جہاں سے وہ شارع فیصل کی جانب مارچ کریں گے۔

کراچی کی صورتحال سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ شہر بھر سے شام 4 بجے مختلف احتجاجی قافلے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہِ پاکستان، حب روڈ، نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے، اورنگی، کورنگی، پاکستان چوک اور شیر شاہ جیسے اہم ترین علاقوں سے نکلنے والے تمام قافلے مزارِ قائد پر جمع ہوں گے۔ وہاں سے ایک تاریخی اور بڑا احتجاجی کارواں شارع فیصل کی جانب مارچ کرے گا جس سے شہر میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے عوام سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی زوردار اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا فیصلہ واپس لیے جانے تک یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 25 کروڑ پاکستانی متحد ہو کر اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کریں تو حکومت کو عوامی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے بھی ٹریفک کی روانگی کو ممکن بنانے اور متبادل روٹس فراہم کرنے کے لیے سیکیورٹی اور انتظام سنبھال لیا ہے۔

🛣️ شہریوں کے لیے متبادل راستے (Alternative Routes)
شمالی علاقوں سے آنے والے شہری: سہراب گوڑھ یا نارتھ ناظم آباد سے یونیورسٹی روڈ کا رخ کریں۔

کورنگی سے صدر جانے والے افراد: کورنگی کاز وے (حالات کے مطابق) یا قیوم آباد سے فوارہ چوک/ڈیفنس کلفٹن روڈ کا استعمال کریں۔

شارع فیصل کے متبادل: جو شہری ائیرپورٹ یا صدر کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں وہ شاہراہِ فیصل کے بجائے راشد منہاس روڈ، یونیورسٹی روڈ اور شہید ملت روڈ کو بطور متبادل راستہ اختیار کریں۔

ایمبولینسز اور ہنگامی سروسز: ٹریفک پولیس اور جماعت اسلامی کے رضاکاروں کی جانب سے ہنگامی گاڑیوں (ایمبولینسز) کو فوری راستہ فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں