
اسلام آباد کی ایک صبح، جو عام دنوں کی طرح شروع ہوئی تھی، اچانک چودہ گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا گئی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں لگنے والی آگ نے چودہ نومولود بچوں کی زندگیاں چھین لیں۔ یہ وہ بچے تھے جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا، جنہوں نے ابھی ماں کی گود کی گرمی کو محسوس کرنا شروع ہی کیا تھا، جن کے ننھے ہاتھ شاید ابھی ماں کی انگلی مضبوطی سے تھامنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تھے۔

یہ صرف چودہ بچوں کی موت نہیں، یہ چودہ خاندانوں کے خوابوں کا اجڑ جانا ہے۔ کتنی ماؤں نے ان بچوں کے لیے دعائیں مانگی ہوں گی، کتنی راتیں جاگ کر ان کی ایک جھلک کا انتظار کیا ہوگا، کتنے باپوں نے اپنے بچے کو پہلی بار گود میں لینے کے خواب دیکھے ہوں گے۔ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ جس جگہ وہ اپنے بچے کو محفوظ سمجھ کر چھوڑ کر آئے ہیں، وہی جگہ ان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا دکھ بن جائے گی۔

ایک ماں کے لیے اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو ہسپتال میں علاج اور حفاظت کے لیے چھوڑے اور چند لمحوں بعد اسے صرف خبر ملے کہ اس کا لختِ جگر اب اس دنیا میں نہیں رہا؟ الفاظ اس درد کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے زبان خاموش اور آنکھیں بولنے لگتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق نرسری میں اس وقت کئی نومولود بچے موجود تھے اور آگ تیزی سے پھیل گئی۔ ابتدائی اطلاعات میں آگ کے آغاز کے حوالے سے مختلف باتیں سامنے آئی ہیں، جبکہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لیکن اس سانحے کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان معصوم بچوں کو اس انجام سے بچایا جا سکتا تھا؟
ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں انسان زندگی کی امید لے کر جاتا ہے۔ وہاں موجود ہر مریض، خصوصاً نومولود بچے، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ ایسے مقامات پر آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی راستے، تربیت یافتہ عملہ اور فوری ریسکیو کا مؤثر نظام کوئی عیش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔

اس سانحے کے بعد صرف چند دن سوگ منانا کافی نہیں۔ اگر کہیں غفلت ہوئی ہے تو اس کا تعین ہونا چاہیے، ذمہ داری طے ہونی چاہیے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقات کا حکم اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کیا اس کے بعد نظام واقعی بہتر ہوتا ہے۔

ہم اکثر حادثے کے بعد چند دن افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر تصاویر اور پیغامات شیئر کرتے ہیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ مگر جن ماؤں کی گودیں اجڑتی ہیں، ان کے لیے وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ ان کے گھروں میں ایک خالی جگہ ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
آج ہمیں ان چودہ معصوم بچوں کے لیے صرف آنسو نہیں بہانے، بلکہ سوال بھی اٹھانے ہیں۔ ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ہمارے ہسپتال کتنے محفوظ ہیں؟ کیا ہر ہسپتال میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی مکمل تیاری موجود ہے؟ کیا عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے؟ کیا نومولود بچوں کے وارڈز میں حفاظتی انتظامات واقعی عالمی معیار کے مطابق ہیں؟

یہ چودہ بچے شاید اپنی زندگی کے بارے میں کچھ لکھ نہیں سکے، مگر ان کی خاموش موت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سوال چھوڑ گئی ہے۔
آخر ان کا قصور کیا تھا؟
ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس دنیا میں آنکھ کھول کر اپنی زندگی شروع کرنا چاہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ ان معصوم فرشتوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے والدین کو صبر عطا فرمائے اور ہمارے اداروں کو اتنی ذمہ داری اور احساس عطا کرے کہ آئندہ کسی ماں کو اپنے بچے کی جدائی کا یہ ناقابلِ برداشت غم نہ سہنا پڑے۔

چودہ ننھی جانیں ہم سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی رہے گی کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔
