سوشل میڈیا کا غلبہ اور کتابوں سے بڑھتی دوری: نئی نسل کے فکری زوال کا سدباب کیسے ممکن ہے؟


سوشل میڈیا کے استعمال نے ہمیں کتابوں سے دور کر دیا ہے
آج کا دور ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو ہمارے ہاتھ میں لا دیا ہے، وہیں اس کے بے تحاشا استعمال نے ہمیں کتابوں سے بھی دور کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ فرصت کے لمحات کتاب پڑھ کر گزارتے تھے، مگر آج وہی وقت موبائل کی اسکرین دیکھتے ہوئے گزر جاتا ہے۔

کتاب انسان کی بہترین دوست سمجھی جاتی ہے۔ کتاب نہ صرف ہمیں علم فراہم کرتی ہے بلکہ ہماری سوچ کو وسیع، الفاظ کے ذخیرے کو مضبوط اور شخصیت کو بہتر بناتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا انسان مختلف معاشروں، تہذیبوں، تاریخ اور زندگی کے تجربات سے واقف ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہماری نئی نسل میں کتاب پڑھنے کا شوق کم ہوتا جا رہا ہے۔ چند منٹ کی ویڈیو، ایک دلچسپ ریل یا سوشل میڈیا کی مسلسل اسکرولنگ نے کتاب کے کئی صفحات پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ معلومات بہت تیزی سے مل جاتی ہیں، لیکن یہی تیزی ہماری توجہ اور صبر کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ کتاب پڑھنے کے لیے وقت، خاموشی اور توجہ درکار ہوتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا چند سیکنڈ میں ہمیں نئی چیز دکھا دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم کسی ایک موضوع پر گہرائی سے غور کرنے کے بجائے مختصر اور فوری معلومات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کا اثر بچوں اور نوجوانوں پر خاص طور پر نظر آتا ہے۔ بہت سے بچے کتاب کھولنے کے بجائے موبائل فون استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ نصابی کتاب کے علاوہ کہانیوں، ادب اور معلوماتی کتابوں سے ان کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ والدین بھی اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل دے دیتے ہیں، جس سے آہستہ آہستہ کتاب پڑھنے کی عادت ختم ہونے لگتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اس کے استعمال میں توازن پیدا کریں۔ موبائل اور انٹرنیٹ ہماری ضرورت ہیں، لیکن انہیں اپنی زندگی کا مالک نہیں بنانا چاہیے۔ اگر ہم روزانہ صرف تیس منٹ بھی کتاب پڑھنے کے لیے مخصوص کر لیں تو کچھ ہی عرصے میں مطالعے کی عادت دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔ والدین اگر خود کتاب پڑھیں اور بچوں کے سامنے مطالعے کو اہمیت دیں تو بچے بھی اس طرف راغب ہوں گے۔
اسکولوں میں بھی کتاب دوستی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ لائبریریوں کو فعال بنایا جائے، بچوں کے لیے کہانیوں اور معلوماتی کتابوں کا انتخاب کیا جائے اور مطالعے سے متعلق سرگرمیاں منعقد کی جائیں۔ گھر میں بھی ایک چھوٹی سی کتابوں کی الماری بنائی جا سکتی ہے تاکہ بچوں کو موبائل کے بجائے کتاب کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا برا نہیں، اس کا غیر ضروری اور بے مقصد استعمال نقصان دہ ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے یا ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کرے گی۔ کتاب اور سوشل میڈیا میں توازن پیدا کرنا ہی بہتر راستہ ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا ہمیں لمحاتی مصروفیت دے سکتا ہے، لیکن کتاب ہمیں سوچنے، سمجھنے اور زندگی کو بہتر انداز میں دیکھنے کا ہنر دیتی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل علم، شعور اور گہری سوچ کی مالک بنے تو ہمیں اسے موبائل کی اسکرین کے ساتھ ساتھ کتاب کے صفحات سے بھی جوڑنا ہوگا۔ کتاب سے دوستی دراصل علم سے دوستی ہے، اور جس معاشرے میں مطالعے کی عادت زندہ ہو، وہاں سوچ اور شعور کبھی ختم نہیں ہوتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں