کراچی (نمائندہ خصوصی : عرشیہ عباسی)
ماہرین نے کراچی پریس کلب کی انوائرمنٹ کمیٹی کے زیرِ اہتمام ’’درختوں کے بغیر کراچی: ماحولیاتی تنزلی، موسمیاتی تبدیلی اور ہمارے شہر کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر خصوصی پینل ڈسکشن کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی، جس میں ماہرینِ ماحولیات، شہری منصوبہ سازوں، موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ شخصیات نے کراچی کے سنگین ماحولیاتی مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

پینل ڈسکشن میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی،انوائرمنٹ کمیٹی کی سیکریٹری فہمیدہ یوسفی سمیت ممتاز ماہرین اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

شرکاء نے کہا کہ کراچی میں تیزی سے کم ہوتے درخت، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، فضائی آلودگی، گرمی کی شدت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شہر کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ کراچی کو اگر ایک محفوظ، صحت مند اور رہنے کے قابل شہر بنانا ہے تو ماحولیات کو شہری منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔

ماہرین نے کہا کہ کراچی میں درختوں کی مسلسل کمی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ شہری صحت، عوامی زندگی اور مستقبل کی نسلوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ شہر میں موجود درختوں اور گرین ایریاز کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر شجرکاری اور نئے گرین بیلٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پینل ڈسکشن کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور شہری انفراسٹرکچر کی تعمیر کے دوران ماحولیاتی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ شہر میں سڑکوں، پارکس، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی مقامات پر شجرکاری کو فروغ دینے کے لیے مربوط اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کراچی میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویو جیسے واقعات میں اضافہ شہریوں کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ درخت شہری درجہ حرارت کم کرنے، فضائی آلودگی میں کمی اور شہری ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے درختوں کا تحفظ اور شجرکاری کو محض ایک مہم کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت، بلدیاتی اداروں، ماہرینِ ماحولیات، سول سوسائٹی، میڈیا اور شہریوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف شجرکاری کافی نہیں بلکہ لگائے گئے درختوں کی نگہداشت، پانی کی فراہمی اور ان کی بقا کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’’درختوں کے بغیر کراچی‘‘ کا تصور ایک خطرناک مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے، اس لیے آج کیے جانے والے ماحولیاتی فیصلے ہی آنے والی نسلوں کے کراچی کا تعین کریں گے۔

پینل ڈسکشن کے اختتام پر کراچی کو سرسبز، محفوظ اور پائیدار شہر بنانے کے لیے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے، درختوں کے تحفظ اور شجرکاری کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

