سرحد یونیورسٹی میں حالیہ کشیدہ صورتحال اور فائرنگ کے واقعے نے نہ صرف تعلیمی ادارے کے ماحول بلکہ اس سے جڑے کئی اہم سوالات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ دستیاب معلومات اور سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیر کو پیش آنے والا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں چند روز سے جاری ایک تنازع، مبینہ ہراسانی سے متعلق شکایات، انتظامی اختلافات اور طلبہ کے احتجاج سمیت متعدد عوامل موجود تھے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے انتظامی معاملات سے وابستہ ڈاکٹر جدون کے خلاف بعض طالبات کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں۔ ان شکایات میں مبینہ طور پر داخلے کے معاملات کے دوران رقم طلب کیے جانے، نامناسب گفتگو اور ہراسانی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعض طالبات کی جانب سے یہ معاملات ڈاکٹر آئینہ کے علم میں لائے جانے کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر یونیورسٹی انتظامیہ تک شکایات پہنچائیں، جس کے بعد ڈاکٹر جدون کے خلاف انکوائری کا عمل شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی دوران ڈاکٹر آئینہ کو اسٹوڈنٹ افیئرز سے متعلق ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہونے لگے۔ تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر جدون کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین ابھی متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا باقی ہے۔ پیر کے واقعے سے قبل جمعہ کو بھی دونوں فریقین کے درمیان مبینہ طور پر ایک ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی۔ دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر جدون ڈاکٹر آئینہ کے دفتر گئے جہاں مبینہ طور پر تلخ کلامی ہوئی اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی۔ ڈاکٹر آئینہ نے صورتحال کے پیش نظر پولیس ایمرجنسی 15 پر اطلاع دی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور معاملہ تھانے تک پہنچا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر آئینہ نے پولیس کو ہراسانی، نازیبا زبان اور مبینہ دھمکیوں سے متعلق درخواست بھی دی۔ بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے معاملے کو باہمی طور پر حل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر ڈاکٹر جدون کی جانب سے ڈاکٹر آئینہ سے تحریری معذرت کی گئی اور یہ معاملہ وقتی طور پر ختم ہوگیا۔ ڈاکٹر آئینہ نے بعد ازاں اپنے شوہر، لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار، کو بھی اس واقعے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ معاملہ تحریری معذرت کے بعد طے پا چکا ہے۔ تاہم اگلے ہی روز یونیورسٹی میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے۔ پیر کے روز جب ڈاکٹر آئینہ یونیورسٹی پہنچیں تو وہاں طلبہ پہلے ہی احتجاج کر رہے تھے۔ طلبہ کے مطالبات میں داخلوں سے متعلق معاملات، یونیورسٹی کے تعلیمی امور اور بعض پروگراموں کی ریکگنیشن سے متعلق مسائل شامل تھے۔ چونکہ ڈاکٹر آئینہ اسٹوڈنٹ افیئرز سے متعلق ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں، اس لیے احتجاج کرنے والے طلبہ نے انہیں گھیر کر اپنے مسائل سے آگاہ کرنا شروع کیا۔ اسی دوران ڈاکٹر جدون بھی طلبہ کے ایک گروپ کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ دستیاب ویڈیو اور عینی معلومات کے مطابق صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب ڈاکٹر آئینہ کو طلبہ کے ہجوم میں گھیر لیا گیا اور مبینہ طور پر ان کے ساتھ دھکم پیل کی گئی۔ ڈاکٹر آئینہ نے دوبارہ پولیس ایمرجنسی 15 سے رابطہ کیا اور اپنے اہل خانہ کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ان کے شوہر لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جو اس وقت دفتر کی جانب جا رہے تھے۔ اطلاع ملنے کے بعد وہ یونیورسٹی پہنچے۔ دستیاب ویڈیو میں انہیں موقع پر موجود طلبہ کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے، جہاں صورتحال پہلے ہی خاصی کشیدہ دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار نے اپنی اہلیہ کو وہاں سے نکالنے اور صورتحال کو پُرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مبینہ طور پر ان کے ساتھ بھی دھکم پیل ہوئی۔ اس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق فائرنگ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کی جانب سے کی گئی، جبکہ ان کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو ہجوم سے نکالنے اور اپنی حفاظت کے لیے دفاعی اقدام کے طور پر فائرنگ کی۔ تاہم فائرنگ کے جواز اور اس کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ واقعے کی ویڈیوز، موقع پر موجود افراد کے بیانات، پولیس ریکارڈ اور دیگر شواہد اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ فائرنگ سے قبل اصل صورتحال کیا تھی اور آیا کسی فریق کو فوری خطرہ لاحق تھا یا نہیں۔ واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ متعلقہ فریقین کے خلاف مقدمات اور قانونی کارروائی کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔ دوسری جانب فوجی افسر سے متعلق بھی تحقیقات کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ اداروں کی جانب سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس پورے واقعے کو صرف پیر کے روز ہونے والی فائرنگ تک محدود کرکے دیکھنا شاید اس تنازع کی مکمل تصویر پیش نہ کرے۔ اس سے قبل سامنے آنے والی شکایات، جمعہ کو پولیس سے رابطہ، مبینہ تحریری معذرت، ڈاکٹر جدون کے خلاف انتظامی کارروائی، طلبہ کا احتجاج اور پیر کو پیدا ہونے والی کشیدگی، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ان تمام کڑیوں کی حتمی حقیقت کا تعین سرکاری ریکارڈ، مکمل تحقیقات اور متعلقہ فریقین کے بیانات کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں ایک طرف طلبہ کے تعلیمی اور انتظامی مطالبات ہیں، دوسری طرف ایک فیکلٹی رکن کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کی شکایات ہیں، جبکہ دوسری جانب فائرنگ میں ملوث فوجی افسر کے اقدام کی قانونی حیثیت بھی ایک اہم سوال بن چکی ہے۔ کسی بھی فریق کے مؤقف کو نظر انداز کیے بغیر شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے اصل حقائق عوام کے سامنے آسکتے ہیں۔ سرحد یونیورسٹی کا یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ تعلیمی اداروں میں پیدا ہونے والے اختلافات اگر بروقت اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے حل نہ کیے جائیں تو معمولی انتظامی تنازع بھی سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جمعہ سے پیر تک پیش آنے والے تمام واقعات کی مکمل ٹائم لائن سامنے لائی جائے، پولیس کو دی گئی درخواستوں اور مبینہ معذرت نامے کی تصدیق کی جائے، یونیورسٹی کے انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور پیر کے روز کیمپس میں موجود ویڈیو شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے۔ حتمی ذمہ داری کا تعین شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، کسی بھی فریق کے خلاف الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے انہیں مبینہ دعووں کے طور پر بیان کرنا ہی صحافتی اصولوں کے مطابق ہوگا۔
تحریر: علیزہ عارفین
