
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے مادر و طفل بلاک کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں 14 نو مولود بچوں کی ملالہ موت صرف ایک ہسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان کے کمزور انتظامی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آگ کا سبب تکنیکی یا برقی خرابی بتایا گیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے وارڈ میں جہاں نومولود بچہ اپنی جان بچانے کے لیے قدم نہیں اٹھا سکتا، آگ کو جلدی روکنے اور بچوں کو محفوظ جگہ لے جانے کا مؤثر نظام کہاں تھا؟ ایک چھوٹی خرابی کو قومی سانحے میں بدلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات، مسلسل نگرانی، تربیت یافتہ عملہ، ہنگامی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تیاری ضروری تھے، پھر بھی یہ کیوں ناکام ہوئے؟ کراچی کے گل پلازہ سے لے کر ملک بھر میں ہسپتالوں اور عمارتوں میں آتش زدگی کے واقعات ایک ہی تلخ سچ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں سانحے کے بعد کارروائی ہوتی ہے، مگر پہلے نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کم نظر آتی ہے۔ ہر حادثے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی، معطلی، تبادلہ اور بیانات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، لیکن جب تک سفارشات پر عمل، ذمہ دار اداروں کا تعین، آزاد حفاظتی جانچ اور مستقل نگرانی نہ ہو، ایک کمیٹی یا افسر کی برطرفی حقیقی اصلاح نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے انتظامی ڈھانچے میں اختیار، وسائل اور ذمہ داری عوام سے اتنی دور ہیں کہ ناکامی کے وقت ذمہ داری ایک دفتر سے دوسرے دفتر منتقل ہوتی رہتی ہے، اور عام شہری کو یہ نہیں معلوم کہ اس کی جان و مال کی حفاظت کا اصل ذمہ دار کون ہے۔
یہ بنیادی انتظامی مسئلہ ہے جو پاکستان میں چھوٹے صوبوں اور بااختیار انتظامی اکائیوں کی ضرورت کو صرف سیاسی نعرے سے باہر نکالتا ہے۔ پاکستان کا آئین آرٹیکل 140-الف مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کا اصول دیتا ہے، مگر عملی طور پر زیادہ تر اختیار، مالی وسائل اور انتظامی کنٹرول صوبائی اور وفاقی مراکز میں مرکوز رہتے ہیں۔ ایک وسیع صوبے کے دور دراز علاقے کا شہری اپنے ہسپتال، فائر سیفٹی، عمارتوں کے حفاظتی ضوابط، پانی، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات کے مسائل کے لیے ایسے دارالحکومت کی طرف دیکھتا ہے جو جغرافیائی اور انتظامی طور پر بہت دور ہوتا ہے۔ آبادی بڑھ چکی ہے، شہر پھیل چکے ہیں اور شہری مسائل پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں، مگر حکمرانی کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی چند بڑے سیاسی اور انتظامی مراکز کے گرد گھومتا ہے۔ نتیجتاً فیصلے عوام سے دور ہو جاتے ہیں، مقامی ضرورت کو سمجھنے والے افراد کے بجائے دور دراز دفاتر میں ترجیحات طے ہوتی ہیں، اور بیوروکریسی کی جواب دہی اکثر عوام کے بجائے اوپر موجود انتظامی اور سیاسی سلسلے سے جڑی رہتی ہے۔ چھوٹے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کا مقصد صرف نقشے پر نئی سرحدیں بنانا نہیں بلکہ طاقت، وسائل اور جواب دہی کو عوام کے قریب لانا ہے۔ جب انتظامی اکائی چھوٹی، مالی طور پر بااختیار اور سیاسی طور پر جواب دہ ہو، تو ہسپتال کی حفاظت، فائر بریگیڈ کی تیاری، عمارتوں کی جانچ، مقامی انفراسٹرکچر اور ہنگامی خدمات جیسے مسائل براہ راست مقامی حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتے ہیں۔ شہری اپنے ذمہ دار نمائندوں اور حکام تک پہنچ سکتے ہیں، ناکامی کی ذمہ داری واضح ہوتی ہے اور کسی سانحے کے بعد یہ بہانہ نہیں رہتا کہ اختیار کسی دوسرے شہر، کسی دوسرے محکمے یا کسی دور دراز دارالحکومت کے پاس تھا۔ اس لیے پمز کے 14 نو مولود بچوں کی موت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پاکستان کو ہر سانحے کے بعد ذمہ دار تلاش کرنے کے بجائے اس نظام کو بدلنا ہوگا جو بار بار ایسے سانحات کے لیے حالات پیدا کرتا ہے۔ چھوٹے صوبے خود بخود ہر مسئلے کا حل نہیں ہوں گے؛ ان کی کامیابی اس وقت ہوگی جب انہیں حقیقی مالی خودمختاری، انتظامی اختیارات، پیشہ ورانہ صلاحیت، مقامی سیاسی قیادت اور عوام کے سامنے واضح جواب دہی ملے۔ اگر صرف نقشہ چھوٹا کر دیا جائے اور وہی غیر مؤثر بیوروکریسی، سیاسی سرپرستی، اختیارات کا مرکوز ہونا اور غیر شفاف نظام برقرار رہے، تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل پیدا کریں گے۔ لیکن اگر اختیارات واقعی نچلی سطح تک منتقل ہوں، وسائل مقامی ضروریات کے مطابق استعمال ہوں، اہم اداروں کی باقاعدہ اور آزادانہ حفاظتی جانچ ہو، ہسپتالوں اور عمارتوں کے ذمہ دار حکام مقامی سطح پر جواب دہ ہوں اور عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی نمائندگی ملے، تو حکمرانی کا پورا رشتہ بدل سکتا ہے۔ ایک مؤثر ریاست صرف سانحے کے بعد افسوس اور تحقیقات نہیں کرتی بلکہ سانحے سے پہلے خطرات کی نشاندجہ، اداروں کی نگرانی اور ناکامی کی روک تھام کو اپنی ذمہ داری بناتی ہے۔ اب وقت کاغذی کمیٹیوں اور عارضی معطلیوں سے آگے بڑھنے کا ہے۔ پاکستان کو ایسے چھوٹے، بااختیار اور مالی و انتظامی طور پر خودمختار صوبوں اور اکائیوں کی ضرورت ہے جہاں اختیار عوام کے قریب ہو، بیوروکریسی عوام کی پہنچ میں ہو، ادارے پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ کام کریں اور ہر ناکامی پر فوری اور واضح احتساب ممکن ہو۔ کیونکہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارا نظام ناکام کیوں ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ نظام عوام سے اتنا دور کیوں ہے کہ ناکامی کے بعد بھی ذمہ دار کا تعین ایک پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔ پمز کے 14 نو مولود بچوں کو صرف ایک اور افسوسناک عدد بنا دینا سب سے بڑی ناانصافی ہوگی؛ ان کی خاموشی ایک بنیادی اصلاح کا تقاضا کرتی ہے: طاقت کو محدود مراکز میں محفوظ رکھنے کے بجائے عوام کے قریب منتقل کیا جائے، تاکہ اگلا سانحہ کسی نئی انکوائری کا موضوع بننے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔
