رات کی خاموشی، پمز کا ٹھنڈا فرش اور چند جلتے ہوئے سوالات

اس رات پمز میں جو ہوا، صرف چودہ سانسیں بند ہونے والی کوئی سادہ سی بات نہیں تھی۔ وہ ایک پوری ناکارہ نظام کا زوردار مظاہرہ تھا، جو ہماری آنکھوں کے سامنے تھا اور ہم نے اسے ہوتا دیکھا۔ باہر او بی وینز کے جنریٹر کی گھنگھناہٹ سنائی دے رہی تھی، کیمروں کی روشنی آنکھوں میں چبھ رہی تھی اور سوشل میڈیا پر الزام تراشی کی دکان لگ چکی تھی۔ کوئی بندہ ہیلتھ کارڈ کی پٹی پڑھ رہا تھا، کوئی اپنی سیاسی بیان بازی کے لیے لاشوں کے ساتھ تصویر بنا رہا تھا۔ انہی شور میں ان چودہ افراد کے روتے ہوئے وارث کہیں کھو گئے تھے۔کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ وہ لوگ کہاں سے آئے تھے، کتنی دوری طے کر کے آئے تھے، کن مشکلات سے گزرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے تھے۔

مجھے اپنی دوست کے طالب علمی کے دن یاد آئے، جب راولپنڈی کے ہسپتالوں کی راہداریوں میں راتیں جاگ کر، اس کی راتیں گزرتی تھیں۔ وہاں جو کچھ دیکھا، اس نے انسان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ پشاور، ایبٹ آباد، وزیرستان، مری، اٹک، میانوالی، آزاد کشمیر سے آتے ہیں، نصف ملک کی امیدیں ایمبولینسوں میں بند ہو کر انہی ہسپتالوں تک پہنچتی ہیں۔

پمز رسمی طور پر اسلام آباد کا ایک بہترین ہسپتال ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کے غریبوں کا آخری سہارا بن چکا ہے۔ ہر وہ گاڑی جو یہاں آتی ہے، صرف ایک مریض نہیں لاتی؛ اس کے ساتھ ایک ٹوٹا ہوا خاندان، ادھار کی لگائی گئی امیدیں اور قرضوں کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ ایسے عالم میں لاکھوں یا اربوں کے بجٹ کا شور کچھ زیادہ معنی نہیں رکھتا — یہ سمندر کے مقابلے میں ایک تنکتا کے مانند ہے۔

ہم نے اپنے طبی نظام کو جس طرح بنایا ہے، وہ بھی ذمہ دار ہے۔ اکثر چھوٹے شہر کے ڈاکٹر مریض کو ایک جملے میں راہنمائی دے کر بھیج دیتے ہیں: “اسے فوراً لاہور یا کراچی لے جاؤ، یہاں بچانا ممکن نہیں۔” ساہیوال ہو، گجرات، اٹک یا میانوالی غریب آدمی بس دھکے کھانے کے لیے تیار ہو کر پیدا ہوتا ہے۔ لاہور اور کراچی کے شاندار ہسپتالوں کے لیے وسائل فوراً نکل آتے ہیں، جبکہ لاڑکانہ، سبی، مری یا میانوالی کے رہنے والوں کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کیا ان کے ٹیکس کا پیسہ ناپید ہو جاتا ہے؟

نتیجہ ہم روز دیکھتے ہیں: بعض مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں، یا پھر بڑے ہسپتالوں کی بدانتظامی کے باعث اندر ہی اندر مر جاتے ہیں۔ ہم کب تک آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہیں گے؟ مسئلہ بالکل واضح ہے، مگر سیاست کے شور میں کوئی سننے کو تیار نہیں۔

حل واضح ہے: اختیار نیچے لائیں اور انتظامی ڈھانچہ بدلیں۔ جب تک ہر ضلع کو اس کا مناسب بجٹ نہیں ملے گا، جب تک مقامی حکومتیں اپنے ہسپتال بنانے اور چلانے کی خود ذمہ دار نہ ہوں گی، اور جب تک وفاقی سطح صرف دفاع اور خارجہ امور تک محدود رہے گی

تب تک اسی تباہ کاری کی کہانیاں آتی رہیں گی۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے: یا تو اس حقیقت کو قبول کریں اور اس نااہلی کے خلاف آواز اٹھائیں، یا پھر انتظار کریں کہ اگلی خبر بھی اسی طرح کے دکھ بانٹ کر گزر جائے۔ سیاسی چمک دمک عارضی ہوتی ہے، مگر مریضوں کے پیچھے جو دُکھ اور بے بسی ہے وہ مستقل ہے۔ ہم تماشائی نہیں رہ سکتے . وقت ہے آواز اٹھانے کا۔

اپنا تبصرہ لکھیں