پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک انتہائی گھناؤنے فعل میں ملوث اوباش ملزم کو رنگے ہاتھوں دھر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شاد باغ کے علاقے میں عمر نامی ایک ملزم سرِ عام سڑکوں اور بازاروں سے گزرنے والی شریف خواتین اور بچیوں کے سامنے مبینہ طور پر برہنہ ہو جاتا تھا اور انتہائی غیر اخلاقی و فحش حرکات کر کے خوف و ہراس اور گھبراہٹ پیدا کرتا تھا۔ مقامی شہریوں اور راہگیر خواتین کے لیے ملزم کی یہ غلیظ اور شرمناک حرکات شدید اذیت کا باعث بنی ہوئی تھیں جس سے علاقے کی سیکیورٹی اور خواتین کے محفوظ ماحول پر سنگین سوالات اٹھ رہے تھے۔ عوامی سطح پر اس گھناؤنی حرکت کی نشاندہی ہوتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے تاکہ ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق اس شرمناک واقعے کی اطلاع ایک باشعور شہری کی جانب سے ایمرجنسی ون فائیو (15) پر کال کر کے دی گئی، جس پر ایس ایچ او شاد باغ محمد ذکاء نے اپنی الرٹ ٹیم کے ہمراہ برق رفتاری سے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ہنگامی ریسپانس دیا۔ شاد باغ پولیس کی اس پیشہ ورانہ اور فوری چھاپہ مار کارروائی کے نتیجے میں ملزم کو فرار ہونے کا ذرہ برابر بھی موقع نہ مل سکا اور اسے برسرِ موقع ہی گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ ایس پی سٹی ارشد حیات کانجو نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملزم عمر کو تھانے منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کے خلاف قانونی دفعات کے تحت باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کر کے جامع تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تمام ثبوتوں کو یکجا کر کے اسے عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
ایس پی سٹی ارشد حیات کانجو نے اس اہم پیش رفت پر اپنے خصوصی بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پنجاب پولیس خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ہراساں کرنے، تنگ کرنے یا غیر اخلاقی حرکات کے ذریعے پریشان کرنے والے معاشرے کے ناسور عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ایسے مجرموں کو سیدھا جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے گا۔ پولیس انتظامیہ نے شہریوں سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد ایسے کسی بھی مشکوک یا غیر اخلاقی رویے پر فوری طور پر 15 پر رابطہ کریں تاکہ قانون شکن افراد کے خلاف بروقت سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
