کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سیکٹر 7 بی میں ایک مکان کی پانی کی ٹنکی سے ڈھائی ماہ کی معصوم بچی کی لاش برآمد ہونے کے دردناک واقعے کا معمہ پولیس نے چند گھنٹوں میں حل کر لیا ہے۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق مقتولہ نور فاطمہ کے چچا محمد حماد ولد جاوید افضل کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے گھریلو ناچاقی، لڑائی جھگڑے اور ذاتی تنازع کی بنا پر معصوم بچی کو ٹنکی میں پھینک کر قتل کرنے کا باقاعدہ اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق بچی کی پیدائش کے بعد سے ہی اس کے والد اور چچا کے مابین اس بات پر شدید جھگڑا اور تنازع چل رہا تھا کہ بچی اصل میں کس کی اولاد ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مقتولہ کی والدہ اور ملزم چچا حماد کے مابین مبینہ تعلقات تھے، جس کی تصدیق بچی کی والدہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے باضابطہ بیان میں بھی کر دی ہے۔
ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں تھانہ سرجانی میں درج کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم کے اعترافِ جرم کے بعد بچی کے والدین کو بھی شاملِ تفتیش رکھا ہوا ہے تاکہ واقعے کے تمام محرکات، خاندانی تنازعات اور اصل حقائق کو مکمل طور پر بے نقاب کر کے عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جا سکے۔
