سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کے پوش اور گنجان آباد علاقے نارتھ ناظم آباد میں اسٹریٹ کرائم کے خلاف پولیس نے بروقت اور دلیرانہ کارروائی کرتے ہوئے سنگین واردات ناکام بنا دی ہے، جہاں فائرنگ کے شدید اور دوطرفہ تبادلے میں تین خطرناک مسلح ڈکیت مارے گئے۔ ضلعی پولیس کے فراہم کردہ ابتدائی شواہد اور تفصیلات کے مطابق یہ سنسنی خیز واقعہ نارتھ ناظم آباد بلاک ایل کی حدود میں پیش آیا، جہاں تیموریہ تھانے کی متحرک گشتی موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ اہلکاروں نے گلی میں مسلح ملزمان کو اسلحے کے زور پر ایک معصوم شہری سے نقدی، موبائل فون اور قیمتی سامان لوٹتے ہوئے رنگے ہاتھوں دیکھ لیا۔ پولیس کی آمد اور گھیرابندی دیکھتے ہی لٹیروں نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر پولیس پارٹی پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں، جس کے جواب میں قانون کے محافظوں نے فوری پوزیشنیں سنبھال کر انتہائی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت جوابی فائرنگ کا بھرپور آغاز کیا۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل عمران خان نے میڈیا نمائندگان کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تفصیلی بریفنگ دی کہ ملزمان انتہائی سفاک اور منظم گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو شہریوں کو لوٹتے وقت معمولی مزاحمت پر بھی گولی چلانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان کافی دیر تک فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں تینوں لٹیرے متعدد گولیاں لگنے سے خون میں لت پت ہو کر گر پڑے اور پولیس نے انہیں موقع پر ہی شدید زخمی حالت میں دھر لیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے نے فوری طور پر ایمبولینسز طلب کر کے تمام شدید زخمی ملزمان کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے عباسی شہید اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا، تاہم ہسپتال انتظامیہ اور ڈیوٹی ڈاکٹرز کے مطابق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تینوں ملزمان علاج کے دوران باری باری دم توڑ گئے جن کی لاشیں ضروری ضابطے کی کارروائی کے لیے سرد خانے منتقل کر دی گئیں۔
ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق پولیس نے ہلاک ہونے والے جرائم پیشہ ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا جدید غیر قانونی اسلحہ، راؤنڈز، چھینی گئی اشیاء اور زیرِ استعمال موٹر سائیکل کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر فارنزک شواہد بھی جمع کر لیے ہیں۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی بائیو میٹرک تصدیق اور ان کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کا کھوج لگانے کے لیے نادرا اور سی آر او (کرمنل ریکارڈ آفس) سسٹم کی مدد لی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ گینگ کراچی کے کن کن دیگر تھانوں کی حدود میں سرگرم تھا اور انہوں نے ماضی میں کتنی خونی وارداتیں کیں۔ ضلعی پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو امن و سکون فراہم کرنے، لوٹ مار کی لعنت کے مکمل خاتمے اور اسٹریٹ کرمنلز کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے شہر بھر میں ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔
