Official Sindh Police insignia representing police force news updates in Karachi

کراچی میں پولیس کانسٹیبل کا اپنا گلا کاٹنے کا لرزہ خیز واقعہ، حالت تشویشناک

شہر قائد کے گنجان آباد علاقے نارتھ کراچی میں ایک انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز سانحہ پیش آیا ہے، جہاں سندھ پولیس کے ایک حاضر سروس جوان نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر تیز دھار آلے سے اپنا ہی گلا کاٹ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ ہولناک واقعہ نارتھ کراچی میں رحمانیہ موڑ کے قریب واقع ایک مقام پر پیش آیا، جہاں اچانک پیش آنے والی اس خونریز واردات نے ارد گرد موجود مکینوں اور راہگیروں میں شدید خوف و ہراس اور سنسنی پھیلا دی۔ خون میں لت پت پولیس اہلکار کو تڑپتا دیکھ کر فوری طور پر امدادی ٹیموں اور پولیس کو طلب کیا گیا جنہوں نے انتہائی برق رفتاری سے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ جائے وقوعہ پر کثیر تعداد میں علاقہ مکین جمع ہو گئے جبکہ ہر آنکھ اس دل دہلا دینے والے واقعے پر اشکبار اور دم بخود نظر آئی۔

ضلعی پولیس کے فراہم کردہ مصدقہ شواہد اور ریکارڈ کے مطابق شدید زخمی ہونے والے اہلکار کی شناخت حمزہ کے نام سے ہوئی ہے، جو نارتھ کراچی کے بلال کالونی تھانے میں بطور پولیس کانسٹیبل تعینات ہے۔ واقعے کے فوری بعد ریسکیو رضا کاروں اور ساتھی اہلکاروں نے شدید خون بہہ جانے کے سبب حالت غیر ہونے پر زخمی اہلکار حمزہ کو قریبی نجی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا، جہاں سرجنز اور ڈاکٹرز کی ٹیم اس کی جان بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن میں مصروف ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق اہلکار کے گلے پر تیز دھار آلے کا گہرا اور خطرناک کٹ لگا ہے جس کے باعث اس کی حالت بدستور انتہائی تشویشناک اور نازک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بلال کالونی تھانے کے ایس ایچ او سمیت سینئر افسران بھی ہسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔

پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر فارنزک شواہد اور خون آلود شواہد کو تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ تفتیش کاروں کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ واقعہ مبینہ طور پر خودکشی اقدام کا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، پولیس نے واضح کیا ہے کہ حتمی نتائج پر پہنچنے کے لیے تمام زاویوں سے باریک بینی کے ساتھ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ اقدام کسی شدید گھریلو پریشانی، نفسیاتی تناؤ، یا محکمہ جاتی دباؤ کے باعث اٹھایا گیا، یا پھر اس کے پیچھے کوئی دیگر بیرونی محرکات شامل ہیں۔ پولیس قیادت نے واقعے کی باضابطہ انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے اہلکار کے اہلِ خانہ اور تھانے کے قریبی ساتھیوں سے بیانات قلمبند کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ واقعے کے اصل محرکات کو شفاف انداز میں سامنے لایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں