Rescue 1122 team and emergency disaster vehicles responding to the school roof collapse site in Peshawar

پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے قیامت صغریٰ، 30 ہلاکتیں

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے گنجان آباد علاقے دیر کالونی میں ایک دلدوز اور المناک سانحہ پیش آیا ہے، جہاں ایک نجی اسکول کی بوسیدہ چھت اچانک زوردار دھماکے سے زمین بوس ہو گئی۔ اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں 30معصوم بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق جبکہ 40 سے زائد طلبہ اور اساتذہ شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ واقعہ دیر کالونی میں واقع ’الخیر اسکول سسٹم‘ کی عمارت میں تدریسی عمل کے دوران اس وقت رونما ہوا جب بچے اپنی کلاسوں میں پڑھائی میں مصروف تھے کہ اچانک کنکریٹ کی وزنی چھت دھڑام سے نیچے آ گری۔ چھت گرتے ہی اسکول کی فضا ننھے بچوں کی دلخراش چیخ و پکار سے گونج اٹھی اور بستی میں کہرام مچ گیا۔ گرد و غبار کے بادل چھٹتے ہی ہر طرف خون آلود کتابیں، بستے اور بکھرا ہوا ملبہ دکھائی دیا، جس پر اہل محلہ اور والدین دیوانہ وار اسکول کی جانب دوڑ پڑے اور ہر آنکھ اس قیامت خیز منظر کو دیکھ کر اشکبار ہو گئی۔

سانحے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی درجنوں ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر ریسکیو گاڑیاں بھاری مشینری، ہائیڈرولک کٹرز اور لائف ڈٹیکٹرز کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر پاک فوج کے دستے بھی فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے سول انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ آپریشن میں حصہ لیتے ہوئے ملبے میں پھنسے زخمیوں کو نکالنا شروع کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی جدوجہد کے بعد درجنوں زخمی طلبہ اور اساتذہ کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال (LRH) منتقل کیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق اسپتال میں فوری ایمرجنسی نافذ کر کے تمام ڈاکٹرز، سرجنز اور پیرا میڈیکل عملے کو طلب کر لیا گیا، جہاں ابتدائی طور پر 17 بچوں کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا، تاہم بعد ازاں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 29 تک جا پہنچی جن میں تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں، جبکہ کئی زیرِ علاج زخمیوں کی حالت تاحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اس ہولناک سانحے پر وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لقمۂ اجل بننے والے معصوم بچوں اور استانی کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زخمی ہونے والے بچوں کو بہترین اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ریسکیو آپریشن میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا نے واقعے کو ناقابلِ تلافی قومی نقصان قرار دیتے ہوئے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے اسکول کی تعمیراتی ساخت، فٹنس سرٹیفکیٹ اور چھت گرنے کے اسباب سے متعلق تفصیلی انکوائری رپورٹ فوری طلب کر لی ہے۔ ملبے تلے مزید افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن آخری اطلاعات تک جاری تھا، جبکہ مقامی آبادی اور سوگوار والدین نے اسکول انتظامیہ کی سنگین غفلت اور ناقص عمارت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں