اربوں کا بجٹ، کچرے کے ڈھیر: کراچی کو اپنانے کو کوئی تیار کیوں نہیں؟

تحریر: عائشہ رانی
سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث کراچی جیسا بین الاقوامی شہر آج کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ شہر میں شاید ہی کوئی سڑک، گلی یا محلہ ایسا ہو جہاں کچرے کے ڈھیر نہ لگے ہوں۔ کراچی کے مکین گندگی اور کچرے کی شکایت کرتے کرتے تھک چکے ہیں، مگر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت نے سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ قائم کیا، مگر اطلاعات کے مطابق یہ ادارہ 2021ء سے بغیر بورڈ اور بغیر رولز کے کام کر رہا ہے۔ جس ادارے کے پاس اپنے قواعد و ضوابط ہی مکمل نہ ہوں، اس سے کارکردگی کی توقع کیسے کی جائے؟ یہی وجہ ہے کہ اس کے قیام کے مقاصد تاحال حاصل نہیں ہو سکے۔ رپورٹس کے مطابق کراچی سے کچرا اٹھانے کی مد میں سالانہ تقریباً 24 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی نتائج تقریباً صفر ہیں۔ شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ شہر سے روزانہ ہزاروں ٹن کچرا اٹھایا جاتا ہے، لیکن اس کچرے کی ری سائیکلنگ کے یونٹس تاحال قائم نہیں ہو سکے، اور اس کی بڑی وجہ بھی رولز کی عدم موجودگی بتائی جاتی ہے۔ حیرت ہے کہ اتنے اہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جا رہی۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کراچی سندھ کا دارالخلافہ ہے اور سندھ اسمبلی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔ اس کے باوجود شہر کے مسائل حل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ حکمرانوں کو اس شہر سے خاص دلچسپی نہیں۔ ان کا تعلق کراچی سے شاید اتنا ہی ہے کہ وہ پُرآسائش زندگی کے لیے یہاں رہتے ہیں، مگر اس شہر کو اپنانے اور اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کا ایک بڑا حلقہ شہر کو الگ انتظامی حیثیت، یہاں تک کہ الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے، اور یہ مطالبہ کسی بھی طرح ناجائز نہیں۔ جب شہر کو چلانے والے ادارے ہی اپنے بنیادی قواعد سے محروم ہوں اور اربوں روپے خرچ ہو کر بھی گلیاں صاف نہ ہوں، تو شہری اختیار اپنے ہاتھ میں مانگنے میں حق بجانب ہیں۔ یہ مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں، بلکہ بہتر انتظام کی خواہش ہے۔ اس مسئلے کا پائیدار حل آئین کے آرٹیکل 140A میں موجود ہے، جو مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینے کی بات کرتا ہے۔ جب صفائی، پانی اور شہری منصوبہ بندی کے فیصلے اسی شہر کے بااختیار نمائندوں کے ہاتھ میں ہوں گے جو روزانہ ان گلیوں سے گزرتے ہیں، تب ہی جواب دہی بھی ممکن ہوگی اور نتائج بھی نظر آئیں گے۔ کراچی کو مضبوط انتظامی یونٹ کی حیثیت دینا اب آسائش نہیں، ضرورت بن چکا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں