سندھ میں ہر ناانصافی اور بدعنوانی جواب دہی کے بغیر رہ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا صوبہ ہے جو بے شمار محرومیوں اور بدانتظامیوں کا شکار ہے۔ سندھ کو ایک ایسے بچے کی طرح نظرانداز کیا گیا جس نے کبھی اپنی محرومیوں کی شکایت نہیں کی۔ تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ آبادی رکھنے والا یہ صوبہ طویل عرصے سے خاموش ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ سندھ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے۔
سندھ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے اور معاشی اعتبار سے اہم صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ 6 انتظامی ڈویژنوں اور 30 اضلاع پر مشتمل ہے، جبکہ اس کی 53.97 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ کراچی کی آبادی بلوچستان جیسے پورے صوبے کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ صرف کراچی ڈویژن میں 2 کروڑ 3 لاکھ 82 ہزار 881 افراد آباد ہیں، جو سندھ کی مجموعی آبادی کا تقریباً 37 فیصد ہیں، حالانکہ کراچی ڈویژن سندھ کے کل رقبے کے صرف 2.5 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔
یہ اعداد و شمار آبادی میں اضافے، انتظامی نظام، مقامی نمائندگی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام اور مقامی حکومتوں کو زیادہ خودمختاری دینے کی بحث بنیادی طور پر اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ ادارے کس طرح مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں، عوام کو بہتر سہولیات فراہم کر سکتے ہیں اور جغرافیائی طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ میں انتظامی اختیارات کی تقسیم اور بلدیاتی حکومتوں کی ناقص کارکردگی کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا اس کی ذمہ دار کمزور مقامی حکومتیں ہیں؟
مقامی حکومتیں پاکستان کے آئینی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت صوبوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ منتخب بلدیاتی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں۔
2021 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ منتخب بلدیاتی حکومتوں کے آئینی اختیارات سے متصادم صوبائی قوانین اور ادارہ جاتی انتظامات کو درست کیا جائے، اور سندھ حکومت کو اپنے قوانین آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔
مالی سال 2024-25 میں بلدیاتی اداروں کے لیے تقریباً 160 ارب روپے مختص کیے گئے، جو صوبائی بجٹ کا تقریباً 5 فیصد بنتے تھے۔ اس رقم میں سے کراچی کے بلدیاتی اداروں کو 34 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ باقی رقم دیگر بلدیاتی اداروں میں تقسیم کی گئی۔
ستمبر 2026 میں سندھ اسمبلی نے بلدیاتی حکومتوں سے متعلق ترمیمی بل منظور کیا، جس کے بعد بعض حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب، مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز میں صوبوں کو بلدیاتی حکومتوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا پابند بنانے کی بات بھی شامل ہے۔
تاہم اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا سندھ کے عوام کو وہ تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں جن کے وہ حق دار ہیں؟
کراچی جیسے بڑے شہر میں عوامی سہولیات کی فراہمی بلاشبہ ایک بہت بڑا انتظامی چیلنج ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مطابق کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زیادہ ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے، جو ممبئی، دہلی یا ڈھاکا کے مقابلے میں بھی زیادہ بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح کراچی کو روزانہ تقریباً 550 سے 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ شہر کی متوقع ضرورت تقریباً 1 ہزار 200 ملین گیلن یومیہ ہے۔
سڑکوں کی مرمت، کچرے کی صفائی، نکاسیٔ آب، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، گلیوں اور سڑکوں کی روشنیاں اور مقامی ٹرانسپورٹ جیسے مسائل بنیادی طور پر شہری اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
تعلیم بھی عوامی سہولیات کی صورتحال کو سمجھنے کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ جولائی 2026 میں صوبائی محکمۂ تعلیم کے ایک عہدیدار کے مطابق سندھ میں تقریباً 76 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر تھے۔
سندھ میں اضافی انتظامی اکائیوں کے قیام کا مطالبہ کوئی نیا مطالبہ نہیں بلکہ اس کی ایک طویل سیاسی تاریخ ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کم از کم 2013 سے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کی قومی اسمبلی کی 22 میں سے 15 نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی 47 میں سے 27 نشستیں حاصل کیں۔ یہ انتخابی نتائج صوبے کے سب سے بڑے شہر میں اس جماعت کی نمایاں سیاسی نمائندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سندھ اسمبلی کی منظوری کے بغیر صوبے کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے 11 اکتوبر 2026 کو بھی اس مؤقف کا اعادہ کیا۔
سندھی قوم پرست جماعتیں بھی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس مؤقف کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ صوبے کی تقسیم جیسا اہم فیصلہ سندھ کے عوام کی واضح رضامندی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔
چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حامی بھی عوامی رضامندی کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ایسی رضامندی حاصل کرنے کے لیے ایک شفاف اور آئینی طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔
یہ وسیع تر بحث لسانی شناخت، انتظامی ضروریات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور علاقائی وحدت جیسے چار اہم معاملات سے جڑی ہوئی ہے۔
چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حامیوں کے مطابق ان اکائیوں کا قیام ان چاروں معاملات کو حل کرنے کا ایک عملی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے ذریعے حکمرانی کو عوام کے قریب لایا جا سکتا ہے، بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور مقامی ضروریات کے مطابق وسائل تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔
سندھ میں چھوٹے انتظامی صوبوں یا نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک لسانی فخر اور قوم پرستانہ شناخت بھی ہے۔
صوبے کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی کسی بھی تجویز کو اکثر لسانی اور ثقافتی شناخت پر حملے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک گہرا خدشہ موجود ہے کہ سندھ کی تقسیم کے نتیجے میں بعض آبادیوں کی سیاسی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور وہ شہری علاقوں میں سیاسی اقلیت بن سکتی ہیں۔
تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں بہتری کی جانب ایک ممکنہ راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔
بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ سندھ کی وحدت کا معاملہ صرف جذبات تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور آئینی پہلو بھی وابستہ ہیں۔
سندھ کی تقسیم سے متعلق تجاویز ہمیشہ شدید جذباتی اور سیاسی ردِعمل پیدا کرتی رہی ہیں، لیکن سندھ کے مسائل صرف جذباتی وابستگی سے حل نہیں کیے جا سکتے۔
ان مسائل کے حل کے لیے بہتر حکمرانی، مؤثر انتظامی نظام، اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور بنیادی سہولیات کی عام شہری تک رسائی ضروری ہے۔
سندھ کی شناخت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن سندھ کے عوام کا حق صرف شناخت تک محدود نہیں۔ انہیں بہتر تعلیم، صاف پانی، علاج، روزگار، مؤثر مقامی حکومتیں اور ایک ایسا انتظامی نظام بھی چاہیے جو ان کی ضروریات پوری کرے اور ان کے سامنے جواب دہ ہو۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ سندھ کی انتظامی حدود کیا ہونی چاہییں، بلکہ یہ بھی ہے کہ سندھ کے کروڑوں عوام کو ان کے بنیادی حقوق کب اور کیسے ملیں گے؟
