
کراچی میں پانی کا بحران گھروں کے چولہوں، بچوں کی تعلیم اور مریضوں کے علاج کا بجٹ کھا رہا ہے۔ جس پیسے سے راشن، کرایہ اور دوائیں لینی تھیں، اسی سے پانی لینا پڑ رہا ہے۔ مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق شہر کی روزانہ ضرورت ایک ارب 25 کروڑ گیلن سے زیادہ ہے، جبکہ فراہمی تقریباً 65 کروڑ گیلن تھی؛ تقریباً 60 کروڑ گیلن کا روزانہ خلا شہریوں کی محرومی کی شدت کو ظاہر کر رہا ہے۔ اس کے باوجود موجود وسائل اور منصوبوں کی حفاظت و فعالیت پر سنگین سوالات برقرار ہیں۔ نکتہ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 6 ارب روپے سے نصب کیے گئے 18 پانی صاف کرنے والے پلانٹس میں بیشتر تباہ حال ہیں، جبکہ مشینری چوری ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سندھ حکومت کو ہر پلانٹ کی موجودہ حالت، فراہم کردہ پانی، غائب مشینری کی تفصیل، اس کی حفاظت کے ذمہ داروں اور کارروائی کا ریکارڈ سامنے لانا چاہیے۔ اس پلانٹس پر سالانہ 60 کروڑ روپے خرچ ہونے کے دعوے بھی بجٹ، جاری شدہ رقوم، اصل ادائیگیوں اور آزاد مالی جانچ کے ذریعے تصدیق ضروری ہے۔ اگر بند پلانٹس کی دیکھ بھال کے نام پر ادائیگیاں ہوئیں تو کس کام کی تصدیق پر ہوئیں؟ عوامی پیسے کا حساب صرف رسیدوں سے نہیں، شہریوں کو ملنے والی خدمت سے ہونا چاہیے۔ دوسری طرف، اکتوبر 2026 میں گیلپ پاکستان کے تجزیے کے مطابق کراچی کا تقریباً ہر چوتھا گھرانہ، یعنی تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار 800 گھرانے، بنیادی طور پر ٹینکر پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے گھرانوں کا درمیانی ماہانہ خرچ تقریباً ساڑھے تین ہزار روپے ہے، فعال پائپ کنکشن والے گھرانوں کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا ہے، جبکہ شہر بھر کا تخمینی سالانہ ٹینکر خرچ ساڑھے 33 ارب روپے ہے۔ یہ شہریوں کا خرچ ہے، کسی گروہ کا ثابت شدہ منافع نہیں؛ تاہم بنیادی سہولت سے محروم گھرانوں پر اضافی بوجھ ضرور ظاہر کرتا ہے۔ صاحبِ استطاعت خاندان بڑا ٹینک بنا سکتا ہے، پانی ذخیرہ کرسکتا ہے اور مہنگا ٹینکر منگوا سکتا ہے، مگر غریب گھرانے کو یہی خرچ خوراک، علاج یا بچوں کی ضروریات کم کرکے پورا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹینکر کا انتظار، پانی بھرنے کی قطار اور روزانہ بندوبست کی فکر وقت بھی چھینتی ہے اور کام و پڑھائی کو متاثر کرتی ہے۔
اس بحران میں قدرتی یا مجموعی قلت کے ساتھ پانی کی چوری، رساؤ، غیر مساوی تقسیم اور کمزور نگرانی بھی زیرِ بحث آنی چاہیے۔ جامعہ مشی گن اسٹیٹ کی تحقیق، جس میں 460 گھرانوں اور 17 ٹینکر آپریٹرز کا سروے شامل تھا، بتاتی ہے کہ سرکاری نظام سے پانی نکال کر فروخت کرنا مصنوعی قلت بڑھاتا ہے۔ تحقیقاتی صحافت میں بھی غیر قانونی ہائیڈرنٹس، پیمائش میں ردوبدل اور بااثر حلقوں و متعلقہ اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کی نشان دہی ہوئی ہے۔ اس لیے کارروائی صرف ٹینکر پکڑنے تک محدود نہیں رہ سکتی؛ غیر قانونی کنکشن، پانی نکالنے کی مقدار، وصولیوں اور سرپرستی کی پوری زنجیر کی جانچ ضروری ہے۔ ساتھ ہی، ہر ٹینکر غیر قانونی نہیں؛ محروم بستیوں کو متبادل فراہمی دیے بغیر ان کا واحد ذریعہ بند کرنا مشکلات بڑھائے گا۔ مئی 2026 کے بحران میں ٹینکر کی قیمتیں دگنی ہونے اور شہریوں کے سات سے دس دن انتظار کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ پائپ پھٹنے، زیرِ زمین رساؤ اور پمپنگ اسٹیشنوں پر بجلی کی بندش نے فراہمی متاثر کی۔ ایسے حالات میں کے فور کی مسلسل تاخیر سندھ حکومت کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر بنیادی سوال بنتی ہے۔ موجودہ مرحلے کا ہدف روزانہ 26 کروڑ گیلن اضافی پانی فراہم کرنا ہے، مگر منبع، ترسیل، بجلی اور محلہ وار تقسیم کی پوری زنجیر مکمل ہونا ضروری ہے۔ ستمبر 2026 کی سینیٹ کمیٹی کارروائی میں صوبائی محکموں کی نامکمل دستاویزات، کمزور رابطہ کاری، مطلوبہ راستے کا نقشہ فراہم نہ کرنے اور ڈیزائن و ابتدائی جائزے میں تکنیکی مسئلہ شناخت نہ ہونے پر اعتراضات سامنے آئے؛ متعلقہ بجلی کی ترسیل کا حصہ جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف بتایا گیا۔ وفاق اور واپڈا سمیت ہر ادارے کی ذمہ داری واضح ہونی چاہیے، جبکہ سندھ حکومت اپنے حصے کے کام اور شہری تقسیم کے نظام کی بروقت تکمیل کی جواب دہ ہے۔ مزید یہ کہ نیا پانی آجانے کے باوجود رساؤ، چوری اور غیر مساوی تقسیم برقرار رہے تو محروم محلوں تک فائدہ محدود پہنچے گا۔ اس لیے پائپوں کی مرمت، قابلِ جانچ پیمائش، ہائیڈرنٹس کی نگرانی، محلہ وار فراہمی کی معلومات اور قابلِ عمل پانی صاف کرنے والے پلانٹس کی بحالی بھی ضروری ہے۔
کراچی کو گندے پانی کو مناسب معیار تک صاف کرکے صنعتوں میں دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی بڑھانی چاہیے، تاکہ میٹھے پانی پر دباؤ اور سمندر میں آلودہ اخراج کم ہوسکے۔ کراچی کے پانی اور نکاسی کے دوسرے بہتری منصوبے میں ملیر بیسن کے لیے روزانہ 12 کروڑ گیلن گندے پانی کی صفائی اور 5 کروڑ گیلن پانی دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی مجوزہ گنجائش شامل ہے۔ یہ اہداف تب فائدہ دیں گے جب پلانٹس مستقل چلیں، معیار کی نگرانی ہو اور صنعتیں واقعی صاف شدہ پانی استعمال کریں۔ سندھ اور چین کا جاری تعاون تعمیر، ٹیکنالوجی اور نظام کی بہتری میں مدد دے سکتا ہے؛ اکتوبر 2026 کے دورۂ چین میں کراچی کے لیے تقریباً 100 کلومیٹر طویل کے فور پائپ لائن پر تعاون مانگا گیا اور متعلقہ کمپنی کی آمادگی رپورٹ ہوئی۔ تاہم آمادگی کو مکمل معاہدہ یا مکمل منصوبہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ واضح مالی بندوبست، شفاف ٹھیکوں، مقررہ مدت، آزاد معیار کی جانچ اور مستقل دیکھ بھال کے بغیر نئی تعمیر بھی پرانے منصوبوں جیسی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس بحران کا انتظامی حل اختیار اور جواب دہی کو شہریوں کے قریب لانے میں بھی تلاش کرنا ہوگا۔ چھوٹی، بااختیار انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے مقامی تقسیم، پلانٹس کی دیکھ بھال، اخراجات اور شکایات کے ازالے کی ذمہ داری واضح کی جاسکتی ہے، تاکہ شہری جان سکیں کہ پانی پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے، بجٹ کہاں خرچ ہوا اور ناکامی پر جواب کس سے لینا ہے۔ لیکن صرف نئی حدبندیاں کافی نہیں؛ قانونی اختیار، مناسب وسائل، منتخب نمائندگی، عوامی معلومات اور آزاد مالی جانچ بھی ضروری ہیں۔ پانی کے بڑے ذرائع اور مرکزی ترسیل کی مشترکہ منصوبہ بندی برقرار رکھتے ہوئے مقامی سطح پر واضح ذمہ داری اور مؤثر احتساب قائم کرنا ہوگا۔ کراچی کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں مسئلہ نظر آئے، ذمہ دار پہچانا جائے اور عوام اپنے حصے کے پانی اور پیسے کا حساب لے سکیں۔ کامیابی کا پیمانہ افتتاحی تقریب نہیں، ہر گھر تک قابلِ اعتماد اور قابلِ برداشت قیمت پر صاف پانی کی فراہمی ہونی چاہیے، تاکہ شہری گھر چلانے کے پیسے پانی خریدنے میں خرچ کرنے پر مجبور نہ ہوں۔
