معروف صحافی اسد طور کا ایف آئی اے ذرائع سے دعویٰ؛ تاجر برادری کے شدید احتجاج اور ‘شٹر ڈاؤن’ کے انتباہ کے بعد محکمانہ کارروائی کا آغاز
اسپیشل رپورٹر
کراچی: صوبائی دارالحکومت کراچی کے معروف تجارتی مرکز صدر میں واقع صرافہ بازار میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے اہلکاروں کی جانب سے جیولری شاپ پر مبینہ چھاپے، تاجر پر تشدد اور بدسلوکی کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، واقعے کی سی سی ٹی وی (CCTV) اور موبائل ویڈیوز منظرِ عام پر آنے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد، ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او (SHO) اور اینٹی کرپشن سرکل (ACC) کے اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور واقعے کی باضابطہ اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
معروف صحافی اسد علی طور نے ایف آئی اے ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیوز سامنے آنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ڈائریکٹر کراچی زون نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور تاجر سے ناروا سلوک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ تادیبی کارروائی کی۔ تاہم، تاحال ایف آئی اے کے میڈیا ونگ یا اعلیٰ حکام کی جانب سے اس معطلی کی باضابطہ تحریری تصدیق یا پریس ریلیز جاری ہونا باقی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز (14 مئی 2026) کو صدر کے علاقے میں ایف آئی اے کی اس مبینہ کارروائی کے دوران دکان کے مالک اور عملے پر تشدد کی اطلاعات نے کراچی سمیت ملک بھر کی تاجر برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ تجارتی حلقوں اور سونا چاندی مارکیٹ کے نمائندوں نے مشترکہ بیانات میں اس کارروائی کو ‘سراسر ظلم اور دھونس’ قرار دیا تھا۔ تاجر رہنماؤں نے وفاقی وزیر داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے مطالبہ کیا تھا کہ قانون کی آڑ میں عزت دار تاجروں کو ہراساں کرنے والے کالی بھیڑوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
تاجر برادری نے برہم ہوتے ہوئے یہ منطقی سوال بھی اٹھایا تھا کہ ’’اگر ایک جیولر کی دکان پر سونا اور چاندی موجود نہیں ہوگا تو کیا وہاں سبزی فروخت ہوگی؟‘‘ انہوں نے انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ملوث افسران کے خلاف فوری اور شفاف انکوائری نہ کی گئی تو وہ اپنے تحفظ اور عزتِ نفس کے لیے کراچی بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور سخت احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی کا حالیہ مبینہ ایکشن تاجر برادری کے اسی شدید ردعمل اور معاشی پہیہ جام ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر سامنے آیا ہے تاکہ معاملے کو مزید طول پکڑنے سے روکا جا سکے۔