ریڈ لائن کی تاخیر: مسئلہ ایک منصوبے کا ہے یا پورے انتظامی ڈھانچے کا؟

تحریر: لائبہ سحر

ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ اسی پیمانے پر سندھ کے موجودہ انتظامی نظام کو چیلنج کر رہا ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطابق منصوبے کے تحت کراچی میں 26.6 کلومیٹر طویل بی آر ٹی کوریڈور بنایا جائے گا، جس سے تقریباً 15 لاکھ افراد فائدہ اٹھائیں گے۔ منصوبے میں 29 اسٹیشن، سڑکوں کی بہتری، نکاسیٔ آب، فٹ پاتھ اور دیگر شہری سہولیات شامل ہیں۔ لیکن جس منصوبے کا مقصد شہریوں کے سفر کو آسان بنانا تھا، اس کی طویل تعمیراتی مدت نے یونیورسٹی روڈ اور ملحقہ علاقوں کے سفر کو مشکل بنا رکھا ہے۔ منصوبے کی منظور شدہ لاگت تقریباً 79.94 ارب روپے تھی۔ لیکن ستمبر 2026 میں ایک رپورٹ میں اس کی تخمینی لاگت 103 ارب روپے تک پہنچ جانے کا ذکر کیا گیا۔ جب کوئی بڑا منصوبہ برسوں تک تعمیر کی جائے اور لاگت بھی بڑھ جائے، تو صرف منصوبے کی مکمل ہونے کا سوال نہیں رہتا، بلکہ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ تاخیر کی ذمہ داری کس سے لی جائے؟ ADB کے ریکارڈ کے مطابق منصوبہ اب بھی زیرِعمل ہے، اور کچھ تعمیراتی پیکجز باقی ہیں۔ اس منصوبے کی قرض کی اختتامی ADB کے ریکارڈ کے مطابق، منصوبہ اب بھی زیرِعمل ہے، اور کچھ تعمیراتی پیکجز باقی ہیں۔ اس منصوبے کی قرض کی اختتامی تاریخ اپریل 2027 تک ہے۔ یعنی معاملہ صرف ماضی کی تاخیر کا نہیں، بلکہ موجودہ انتظامی چیلنج کا بھی ہے۔ اس سے سوال سامنے آتا ہے: کیا مسئلہ صرف ریڈ لائن کا ہے، یا اس انتظامی ڈھانچے کا بھی ہے جس کے تحت کروڑوں کی آبادی والے شہروں اور دور دراز علاقوں کے مسائل ایک ہی صوبائی نظام میں نمٹائے جاتے ہیں؟ کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، سڑکوں، کچرے اور شہری منصوبہ بندی کے معاملات مختلف اداروں کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، سڑکوں، کچرے اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات مختلف اداروں سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب ذمہ داریاں کئی حکام کے ہاتھوں میں تقسیم ہو جائیں، تو شہری کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس کو جواب دہ سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے یا زیادہ بااختیار انتظامی یونٹس کی بحث صرف سیاسی نعرے نہیں رہتی، بلکہ گورننس اور جواب دہی کا ایک اہم سوال بن جاتی ہے۔ حامی دلیل دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی عوام کے قریب آنے سے منصوبوں کی نگرانی بہتر ہو سکتی ہے۔ پہلے لوگ کہتے ہیں کہ اگر فیصلہ ساز عوام کے قریب رہیں تو منصوبوں کی نگرانی بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ نئے یونٹس بننے سے مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ اختیارات، مالی خودمختاری اور جواب دہی کیسے ہو۔ اگر موجودہ انتظامی نظام کام کر رہا ہے تو کراچی میں ایک ٹرانسپورٹ منصوبے کو کیوں تاخیر اور لاگت بڑھ رہی ہے؟ اگر لاگت میں اربوں کا فرق ہو گیا تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ اور اگر شہری کئی سال تک ٹریفک جام، گردوغبار، متبادل راستوں اور کاروباری نقصان برداشت کر رہے ہیں تو ان کی تکلیف منصوبے کی کارکردگی کے جائزے میں کیوں شامل نہیں؟ یہ سوال کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جو حکومت اقتدار میں ہے، اس سے زیادہ سخت سوال پوچھنا چاہیے۔ لیکن انتظامی اصلاحات کی ہر تجویز کی جانچ ضروری ہے۔ ریڈ لائن کا منصوبہ مکمل ہو جائے گا، بسیں چلیں گی، اور یونیورسٹی روڈ کچھ برس بعد مختلف دکھائی دے گا۔ لیکن ایک سوال باقی رہے گا: کیا سندھ کا موجودہ انتظامی نظام اپنے بڑے شہروں اور دور دراز علاقوں کو وقت پر، شفاف اور جواب دہ حکمرانی فراہم کر سکتا ہے؟ یا اب انتظامی اختیارات اور یونٹس کی ساخت پر بحث کرنا ضروری ہو گئی ہے؟ کیونکہ اصل مسئلہ نقشے پر لکیر کھینچنا یا پرانی لکیر بچانا نہیں، بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ عوام کے مسائل کا ذمہ دار کون ہوگا، وسائل کہاں خرچ کیے جائیں گے اور ناکامی ہو گئی تو کون جواب دے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں