Karachi ATM Petrol Fire CCTV Footage

کراچی میں اے ٹی ایم کو آگ لگانے کا ڈرامائی ڈراپ سین: سی سی ٹی وی فوٹیج نے پولیس کا شارٹ سرکٹ کا دعویٰ جھوٹا ثابت کر دیا!

روشنیوں کے شہر کراچی کے تاریخی اولڈ سٹی ایریا میں واقع چاند بی بی روڈ پر ایک نجی بینک کے اے ٹی ایم بوتھ میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے میں ایک سنسنی خیز اور حیران کن موڑ سامنے آ گیا ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے شارٹ سرکٹ قرار دیا جانے والا یہ حادثہ دراصل اتفاقی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بند مجرمانہ کارروائی نکلا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی نجی بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے واقعے کی تمام تر حقیقت طشت از بامر کر دی ہے، جس میں ایک نامعلوم ملزم کو انتہائی بے باکی کے ساتھ اے ٹی ایم مشین پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واضح فوٹیج کے سامنے آنے کے بعد پولیس کے ابتدائی موئقف کی قلعی کھل گئی ہے اور عوامی حلقوں میں پولیس کی ابتدائی تفتیش پر گہرے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق چاند بی بی روڈ پر قائم نجی بینک کے اے ٹی ایم بوتھ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مشین اور اندرونی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی رسالہ تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی سائنسی تفتیش کے واقعے کو شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دے کر فائل بند کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، اے ٹی ایم کے اندر نصب ہائی ڈیفینیشن کیمرے میں ریکارڈ ہونے والے مناظر نے پولیس کی اس کہانی کو مکمل طور پر غلط ثابت کر دیا۔ فوٹیج میں واضح نظر آ رہا ہے کہ ایک شخص بوتھ کے اندر داخل ہوتا ہے، بوتل سے پیٹرول مشین پر انڈیلتا ہے اور پھر آگ لگا کر موقع سے باآسانی فرار ہو جاتا ہے، جس کی ویڈیو اب سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکی ہے۔

اس سی سی ٹی وی فوٹیج کے منظرِ عام پر آنے اور سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردِعمل کے بعد رسالہ پولیس نے فوری طور پر معاملے کی تحققیات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام نے وائرل ویڈیو کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جبکہ جیو فینسنگ اور جدید کرائم سین ٹیکنالوجی کے ذریعے ملزم کی تلاش جاری ہے۔ بینک انتظامیہ کی جانب سے بھی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے شہر میں بینکوں اور عوامی اہم تنصیبات کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کس طرح ایک ملزم دن دہاڑے پیٹرول لا کر اتنی آسانی سے اے ٹی ایم کو نذرِ آتش کر کے فرار ہو گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں