Karachi Police barricade at security post representing Sindh Police operational efficiency

نیا ناظم آباد سے اغوا ہونے والا ڈھائی سالہ اذان گھارو سے بحفاظت بازیاب، پولیس ٹیم کو انعامات کا اعلان

کراچی کے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں پولیس نے ایک کامیاب اور زبردست آپریشن کرتے ہوئے نیا ناظم آباد سے اغوا ہونے والے ڈھائی سالہ معصوم بچے اذان علی خان کو ٹھٹہ کے قریب گھارو کے علاقے سے بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق معصوم اذان کو دو روز قبل تھانہ منگھوپیر کی حدود سے موٹرسائیکل سوار نامعلوم ملزم اغوا کر کے لے گیا تھا، جس کا مقدمہ درج کر کے فوری تفتیش شروع کی گئی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید سائنسی شواہد کی مدد سے لوکیشن کا پتہ لگاتے ہوئے پولیس نے بروقت کارروائی کی اور بچے کو اغوا کاروں کے چنگل سے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اغوا کا مقدمہ الزام نمبر 438/2026 بجرم دفعہ 364-A تعزیراتِ پاکستان اور پریوینشن آف ٹریفکنگ اِن پرسنز ایکٹ 2018 کی سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تمام ضروری قانونی اور طبی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد بازیاب کرائے گئے بچے کو بحفاظت اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے جس پر متاثرہ خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس ٹیمیں اب اس سنگین واردات اور بچوں کی اسمگلنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کے تمام سہولت کاروں اور مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے معصوم بچے کی منٹوں میں بحفاظت بازیابی پر ایس ایس پی ویسٹ، ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او منگھوپیر پر مشتمل پوری تفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد اور سی سی فرسٹ نقد انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی انتہائی شفاف اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی جائے تاکہ اغوا میں ملوث تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت ترین اور عبرتناک کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں