پاکستان کلچرل فورم: ازبک دانشوروں پروفیسر تاش مرزا اور پروفیسر مخیہ عبدالرحمان کے اعزاز میں ظفر بختاوری کی جانب سے پُروقار عشائیہ

اردو اور ازبک زبانوں کے مابین 4 ہزار مشترک الفاظ کی لغت ایک عظیم علمی کارنامہ ہے، ظفر بختاوری؛ پاکستان اور ازبکستان کے مابین ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار

اسلام آباد، کراچی (علیم نواب خان سے)

پاکستان کلچرل فورم کے زیرِ اہتمام، معروف سماجی، ثقافتی اور کاروباری شخصیت ظفر بختاوری نے اپنی رہائش گاہ پر ازبکستان کے دو ممتاز اور جلیل القدر قلمکاروں، پروفیسر تاش مرزا اور پروفیسر مخیہ عبدالرحمان کے اعزاز میں ایک نہایت پُر وقار عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس ادبی و ثقافتی نشست میں پاکستان کی نامور علمی، ادبی، سفارتی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور دونوں برادر ممالک کے مابین ثقافتی قربتوں کو سراہا۔

تقریب کے شرکاء
عشائیے میں جن ممتاز شخصیات نے شرکت کی ان میں پروفیسر فتح محمد ملک، پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر (ڈی جی ادارہ فروغِ قومی زبان)، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف (چیئرپرسن اکادمی ادبیاتِ پاکستان)، قیصرہ علوی، عادل مرزا، فرمان علی، طاہر فاروق، نعیم خان اور شہباز چوہان سمیت دیگر معزز مہمان شامل تھے۔

ظفر بختاوری: پاکستانیت اور اردو زبان کے فروغ کا علمبردار
ظفر بختاوری نے اپنے جذباتی اور پرمغز خطاب میں کہا کہ وہ ہر اس شخص کی عزت و تکریم کرتے ہیں جو دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر پاکستان، اردو زبان اور ہماری تہذیب و ثقافت کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے پروفیسر تاش مرزا اور پروفیسر مخیہ عبدالرحمان کو اپنا ”ہیرو“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ:

”پروفیسر تاش مرزا کی جانب سے چار ہزار مشترک الفاظ پر مشتمل ’اردو-ازبک لغت‘ کی تدوین ایک ایسا عظیم علمی کارنامہ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ لغت دراصل دو تہذیبوں، دو معاشروں اور دو برادر ممالک کو جذباتی و علمی طور پر قریب لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔“

انہوں نے پروفیسر مخیہ عبدالرحمان کی تاشقند یونیورسٹی میں اردو کی تدریس اور ازبک افسانوں کے اردو تراجم پر بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ظفر بختاوری نے اپنے عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر اور ازبک قومی شاعر علی شیر نوائی کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی تقریبات کا انعقاد کریں گے۔

دانشوروں کی آراء
تقریب کے شریک معزز مہمانوں نے ظفر بختاوری کی میزبانی اور ثقافتی بصیرت کی بھرپور تعریف کی۔

پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ وہ اب تقریبات میں بہت کم شرکت کرتے ہیں، لیکن ظفر بختاوری کی میزبانی اور تاش مرزا جیسے عزیز دوست کی محبت انہیں یہاں کھینچ لائی ہے۔ انہوں نے ظفر بختاوری کو ادب و ثقافت کی خدمت کا علم بلند رکھنے پر سراہا۔

پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ ظفر بختاوری ذاتی کاوشوں سے وہ کام کر رہے ہیں جو بڑے بڑے اداروں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی پاکستانیت اور ثقافت دوستی کا واضح ثبوت ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ ظفر بختاوری کی بدولت برسوں پرانے علمی تعلقات کی تجدید ہوئی ہے۔ ایسی تقریبات دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔

ازبک مہمانوں کا جذباتی پیغام
پروفیسر مخیہ عبدالرحمان نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کا علمی سفر اردو زبان سے وابستہ ہے۔ انہوں نے اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ نے انہیں انگریزی کے بجائے اردو اسکول میں داخل کروایا۔ انہوں نے مزید کہا:

”ہمارے گھر میں سب اردو بولتے ہیں اور جب بھی پاکستان سے کوئی مہمان آتا ہے تو ہم ایک جملہ ضرور کہتے ہیں: ’ہم آپ سے پیار کرتے ہیں‘۔“

انہوں نے اپنے استاد پروفیسر تاش مرزا کی اردو خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ظفر بختاوری کو ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقفِ حیات شخصیت قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین ادبی، علمی اور ثقافتی روابط کو نئے عہد میں مزید مضبوط اور فعال بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں