پمز سانحہ: جواب دہی کا امتحان

کچھ سانحات صرف ایک خاندان کو نہیں، پوری قوم کو سوگوار کر دیتے ہیں۔ لیکن کچھ سانحات سوگ کے ساتھ ایک تلخ سوال بھی چھوڑ جاتے ہیں: کیا یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا؟
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والا سانحہ اسی نوعیت کا ہے۔ بدھ کی صبح مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت نرسری میں کم از کم 15 نومولود موجود تھے۔ صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا، جبکہ 14 معصوم زندگیاں لقمۂ اجل بن گئیں۔ یونیسیف نے بھی اسے نومولود بچوں کی ایک المناک ہلاکت قرار دیا۔
آگ کیسے لگی؟ شارٹ سرکٹ تھا؟ ایئر کنڈیشنر میں خرابی ہوئی؟ آکسیجن نے آگ کو شدت دی؟ یہ سب سوالات تحقیقات کا حصہ ہونے چاہئیں۔ لیکن اصل اور زیادہ تکلیف دہ سوال اس سے کہیں بڑا ہے:
ایک جدید اور بڑے سرکاری ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں آگ لگنے کے بعد تقریباً پوری نوزائیدہ یونٹ کیسے تباہ ہو گئی؟
آگ لگ جانا ایک حادثہ ہو سکتا ہے۔ بجلی کا نظام خراب ہو سکتا ہے، مشین ناکارہ ہو سکتی ہے، کمپریسر جواب دے سکتا ہے۔ لیکن ایک محفوظ ہسپتال اور غیر محفوظ ہسپتال میں فرق اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی خرابی پیدا ہو۔
ایک تیار ہسپتال میں فائر الارم بروقت بجتا ہے، آگ کو محدود کرنے کا نظام موجود ہوتا ہے، بجلی اور آکسیجن کو محفوظ طریقے سے بند کرنے کے انتظامات ہوتے ہیں، ایمرجنسی راستے کھلے ہوتے ہیں اور عملہ جانتا ہے کہ کس مریض کو کس طرح محفوظ مقام تک منتقل کرنا ہے۔
اور سب سے زیادہ توجہ ان مریضوں پر ہونی چاہیے جو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ نومولود بچے، خصوصاً انکیوبیٹرز اور مسلسل طبی امداد پر انحصار کرنے والے بچے، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پمز سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے ہسپتال کے فائر پریوینشن اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی قرار دیا تھا۔ مزید یہ کہ ماضی میں بھی پمز کو فائر سیفٹی سے متعلق نوٹسز جاری کیے جا چکے تھے۔
ایمرجنسی سروسز کی جانب سے بتایا گیا کہ کال موصول ہونے کے تقریباً چھ منٹ میں پہلی فائر ٹینڈر ہسپتال پہنچ گئی۔ تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ فائر بریگیڈ کتنی دیر میں پہنچی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان چھ منٹوں کے دوران ہسپتال کے اندر کیا ہو رہا تھا؟
پمز کوئی معمولی طبی مرکز نہیں۔ اس کی 2024-25 کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں 1,282 بیڈز ہیں اور بیڈ آکوپینسی 85 فیصد رہی۔ مالی ریکارڈ کے مطابق 2023-24 میں پورے پمز نظام پر تقریباً 7.92 ارب روپے خرچ ہوئے، جبکہ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر پر 637 ملین روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے۔
اس لیے اس سانحے کو صرف وسائل کی کمی کا معاملہ قرار دینا کافی نہیں۔ سوال اب ترجیحات، دیکھ بھال، نگرانی، حفاظتی معیارات اور جواب دہی کا ہے۔
پاکستان میں ہسپتالوں میں آگ لگنے کا یہ پہلا واقعہ بھی نہیں۔ جون 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں آگ لگنے سے چار نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھی فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس اور بچوں کے وارڈز میں حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھے تھے۔
یعنی انتباہ پہلے بھی موجود تھا، مگر سبق شاید نہیں سیکھا گیا۔
ہر بڑے سانحے کے بعد ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے: تعزیت، تحقیقاتی کمیٹی، سخت کارروائی کے اعلانات اور چند دنوں میں رپورٹ۔ مگر اصل امتحان کمیٹی بنانے کا نہیں، نظام بدلنے کا ہے۔
اب وقت صرف ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانے، کسی ایک افسر کو معطل کرنے یا سخت کارروائی کے دعوے کرنے کا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تحقیقات کے نتائج سے ذمہ داری واضح ہو، غفلت ثابت ہونے پر مؤثر کارروائی ہو اور پورے سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ ہر الارم، ہر ایمرجنسی ایگزٹ، ہر آکسیجن لائن اور ہر برقی نظام کی باقاعدہ جانچ اور عملی فائر ڈرل لازمی ہونی چاہیے۔ یہ سانحہ محض ایک رپورٹ کے ساتھ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نظام کو حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے بدلنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، تاکہ اگلی بار کسی ماں کو اپنے نومولود کی جان کی قیمت ہماری غفلت کی صورت میں نہ چکانی پڑے۔

اپنا تبصرہ لکھیں