“نظام بہتر کرو” کا نعرہ، مگر عمل کہاں؟

تحریر: عائشہ رانی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھرکول بلاک ٹو فیز 3 منصوبے کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ اگر اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے تو اسے تھر کے حوالے کر دیں، اور نئے صوبے بنانے کے بجائے موجودہ نظام کو بہتر بنائیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تھرپارکر ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے، اور یہی کامیاب ماڈل باقی ملک کو بھی اپنانا چاہیے۔ یہ بیان اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب وفاق میں صدرِ پاکستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے گورنرز، اور بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں، اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ 18 سال سے مسلسل برسرِ اقتدار ہے۔ اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر “نظام بہتر کرنا” ہی اصل حل ہے، تو سندھ کے اندر یہ نظام ان 18 برسوں میں کتنی بہتری حاصل کر سکا؟ کراچی، جو پہلے عروس البلاد کے نام سے مشہور تھا، اب بنیادی شہری سہولیات کی کمی کا شکار ہے، اور شہر کا بڑا حصہ کھنڈرات کی طرح نظر آتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال کشمور اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں ہے، جہاں ڈاکوؤں نے عوام کے جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ اغوا برائے تاوان کی واقعات معمول بن چکی ہیں، اور بعض بار بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے مہینوں تک انتظار کرتے ہیں، اور ریاستی رٹ کا کمزور ہونا پورے علاقے میں واضح ہے۔تھرپارکر کا معاملہ بھی دو طرفہ ہے۔ ایک طرف تھرکول منصوبہ کامیاب ہے؛ یہ ملک کو تقریباً 1.6 ارب ڈالر کا قیمتی زرِ مبادلہ دے رہا ہے اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ دوسری طرف، یہی علاقہ برسوں سے پانی کی شدید قلت، خشک سالی کے باعث مویشیوں کی ہلاکت اور کئی خاندانوں کی نقلِ مکانی کا شکار ہے۔ بعض رپورٹس میں غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی اموات کا ذکر بھی ہوا ہے۔ ایک کامیاب توانائی منصوبہ قابلِ تحسین ہے، لیکن اس سے یہ نہیں گوارا کہ عام رہائشی کی زندگی بھی اتنی بہتر ہوئی ہو۔ پھر بھی سندھ کے حکمرانوں کا مسلسل یہی خیال ہے کہ صوبے میں سب کچھ بہترین اور مثالی ہے، گویا یہ مسائل موجود ہی نہیں۔ اس طرح بلاول بھٹو زرداری سے گزارش ہے کہ اسلام آباد کی بات بعد میں کریں، پہلے اپنے صوبے سندھ کو سنبھال لیں۔ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی 18 سال سے حکومت میں ہے، لیکن کراچی سے کشمور اور تھرپارکر تک بنیادی مسائل حل طلب ہیں؛ تو “نظام بہتر کرو” کا دعویٰ خود اپنی کارکردگی سے ہی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ “نظام بہتر کرو” کا نعرہ صرف الفاظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کا حقیقی مطلب ہے کہ مقامی حکومتوں اور انتظامی یونٹس کو وہ اختیار، فنڈز اور خودمختاری دی جائے جو آئین کے آرٹیکل 140A میں وعدہ کیا گیا ہے۔ کشمور میں امن و امان کا مسئلہ ہو یا تھرپارکر میں پانی کی قلت، دونوں کا حل ایک ہی سمت میں ہے: فیصلہ سازی کا اختیار مقامی سطح پر منتقل کرنا، فوری جواب دہی کو یقینی بنانا، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم۔ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے گھر کی صفائی زیادہ ضروری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں