تیل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ؛ وزیراعظم مودی کی شہریوں سے گھر سے کام کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اپیل
ویب ڈٰسک
ایران میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران نے بھارتی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دنیا کے تیسرے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک بھارت نے جمعہ کے روز ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت 97.77 روپے اور ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
بھارت اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل بیرونِ ملک سے منگواتا ہے، جس کا نصف حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے سپلائی میں تعطل اور عالمی قیمتوں میں اضافے نے بھارتی حکومت کو یہ کڑا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈروں کے مطابق، حکومت نے حالیہ ریاستی انتخابات کے مکمل ہونے تک قیمتوں کو مستحکم رکھا تھا اور پولنگ ختم ہوتے ہی بوجھ عوام پر منتقل کر دیا گیا۔
ایندھن کی بچت کو ‘حب الوطنی’ قرار دے دیا گیا
وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سادگی اور بچت کی مہم اپنائیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ:
جہاں تک ممکن ہو، گھر سے کام (Work from home) کریں۔
غیر ملکی سفر اور سونے کی خریداری میں کمی لائیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور کھاد کے کم استعمال کو فروغ دیں۔
وزیراعظم نے ایندھن کی بچت کو “حب الوطنی” کے مترادف قرار دیا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں پہلے ہی 90 روزہ بچت مہم شروع کر دی گئی ہے، جہاں سرکاری ملازمین کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ نجی کمپنیوں کو بھی اس کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

متبادل ذرائع اور نئے معاہدے
تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے بھارت نے پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول (Ethanol) شامل کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ اگرچہ ماہرین اسے توانائی کے استحکام کے لیے بہتر قرار دے رہے ہیں، تاہم انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ خوراک کے لیے مخصوص زمین پر بائیو فیول کی فصلیں اگانے سے غذائی قلت اور پرانی گاڑیوں کے انجنوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعظم مودی نے اپنے پانچ ملکی دورے کے آغاز پر متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ تیل، گیس اور دفاعی تعاون کے اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ یو اے ای نے ایک ایسی نئی آئل پائپ لائن کی تعمیر تیز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو 2027 تک مکمل ہوگی اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گی۔ نئی دہلی میں ٹیکسی ڈرائیوروں اور عام شہریوں نے اس مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غریب طبقے کے لیے اضافی بوجھ قرار دیا ہے۔