مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے؛ امریکی فوج کے ایران پر دوبارہ حملے، بندر عباس دھماکوں سے لرز اٹھا!

تہران/واشنگٹن (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں امریکی افواج نے ایران کے خلاف ایک نئے اور بڑے فوجی آپریشن کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق، تازہ ترین حملوں کے بعد ایران کے اہم ترین ساحلی اور سٹریٹجک شہر ‘بندر عباس’ میں یکے بعد دیگرے کئی زور دار اور خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے حملوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے کہ امریکی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے عسکری ٹھکانوں پر نئی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے، جن کا بنیادی مقصد دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں شہری اور مال بردار بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ایرانی حملوں کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

امریکی عسکری ہیڈ کوارٹر ‘سینٹکام’ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ہنگامی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فوجی کارروائیاں امریکی کمانڈر ان چیف (صدرِ امریکا) کے براہِ راست اور خصوصی احکامات پر کی جا رہی ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ان کی افواج کی جانب سے بین الاقوامی سمندری حدود میں تجارتی جہاز رانی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کا جواب دینا اور خطے کی بحری سلامتی کو برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، تازہ ترین کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بین الاقوامی تجارتی کارگو جہاز پر مبینہ طور پر براہِ راست فائرنگ کی گئی، جس کے فوری ردعمل میں علاقے میں گشت کرنے والے امریکی لڑاکا طیاروں نے جوابی کارروائی کی اور فضا میں ہی ایک ایرانی کروز میزائل اور خودکش ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا۔

دوسری جانب، ایران کے سرکاری اور مقامی میڈیا نے بندر عباس بندرگاہ اور اس کے گردونواح میں ہونے والے متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی گونج میلوں دور تک سنی گئی، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصانات اور عسکری تنصیبات کی تباہی سے متعلق کوئی آفیشل ڈیٹا یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ دفاعی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ امریکا کا ایران پر حملوں کا یہ نیا مرحلہ عالمی توانائی مارکیٹ پر بدترین اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی صورت میں دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معطل ہو جائے گی، جو پہلے ہی امریکی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 3 فیصد سے زائد بڑھنے کی شکل میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں