واشنگٹن (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ مسلح تصادم اور شدید جنگی کشیدگی کے دوران کویت میں موجود امریکی عسکری تنصیبات پر ہونے والے ایک ہولناک حملے کی نئی اور سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایک معتبر امریکی اخبار کی جانب سے جاری کردہ خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، کویت کی سٹریٹجک ‘شعیبہ بندرگاہ’ (Shuaiba Port) پر ایرانی فورسز کی جانب سے کیا جانے والا ڈرون حملہ موجودہ جنگ میں امریکی فوج کے لیے اب تک کا سب سے مہلک اور سب سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے والا واقعہ ثابت ہوا ہے۔ اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ یکم مارچ کو ہونے والے اس انتہائی درست ڈرون حملے کے نتیجے میں موقع پر ہی 6 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ درجنوں اہلکار شدید زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تاحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے دعوے کے مطابق، یہ لرزہ خیز حملہ پاکٹ وار (جنگ کے ابتدائی دنوں) میں پیش آیا تھا، جس نے امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون کے سیکیورٹی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اخبار نے حملے سے معجزانہ طور پر بچ جانے والے امریکی فوجیوں اور عسکری حکام کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس تباہ کن واقعے سے قبل ہی امریکی انٹیلی جنس اور کمانڈرز کو ممکنہ فضائی خطرے اور بندرگاہ کی ناقص سیکیورٹی تنصیبات سے متعلق متعدد بار تحریری طور پر الرٹ کیا گیا تھا۔ بچ جانے والے اہلکاروں نے اب اعلٰی قیادت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں کہ اگر پہلے سے موصول ہونے والی انٹیلی جنس وارننگز اور خطرے کی رپورٹس پر سنجیدگی سے توجہ دی جاتی اور حفاظتی اقدامات سخت کیے جاتے، تو 6 قیمتی جانوں کے ضیاع اور اس بڑے فوجی نقصان کو آسانی سے کم یا روکا جا سکتا تھا۔
اس ہائی پروفائل واقعے کی رپورٹ پبلک ہونے کے بعد واشنگٹن کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے، اور امریکی فوج کی مشرقِ وسطیٰ میں مجموعی جنگی حکمتِ عملی، دفاعی ایئر شیلڈ سسٹمز (Patriot Systems) کی ناکامی، اور فیلڈ کمانڈ کی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں پر شدید بحث اور تنقید کا آغاز ہو گیا ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کوتاہی کی اعلیٰ سطح پر انکوائری شروع کر دی گئی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ خطے میں موجود دیگر امریکی اڈوں کو ایرانی ڈرون اور کروز میزائلوں کے ایسے ہی سرپرائز حملوں سے کیسے محفوظ بنایا جائے۔ دوسری جانب، ماہرینِ دفاع کے مطابق، کویت جیسے اتحادی ملک میں امریکی فوج کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اس جنگ کا دائرہ کار آبنائے ہرمز سے نکال کر پورے خطے میں پھیلانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
