بینکاک (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے ایک انتہائی مقبول اور رش والے نائٹ کلب (پب) میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات اچانک لگنے والی ہولناک آگ نے ہنستے کھیلتے ماحول کو سیکنڈوں میں جہنم زار بنا دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس لرزہ خیز سانحے میں کم از کم 27 افراد جھلس کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ 63 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں جن میں سے 22 کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ تھائی لینڈ کی حالیہ تاریخ میں سیاحتی مرکز کے اندر پیش آنے والا یہ اب تک کا سب سے مہلک اور دلدوز ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ڈیزاسٹر ایڈمنسٹریشن کے حکام کے مطابق، یہ خوفناک واقعہ بینکاک کے شمالی مضافاتی علاقے چٹوچک میں واقع ‘رونگ بیر نا لاٹ فراؤ’ نامی مشہور لائیو میوزک پب میں پیش آیا، جو اپنے نائٹ لائف کلچر اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کے باعث انتہائی معروف ہے۔ تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم انوتین چارنویراکول نے پیر کی صبح جائے وقوعہ کا ہنگامی دورہ کیا اور میڈیا کو بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق، پب کے اسٹیج ایریا میں لگے ایک چھت والے ایئر کنڈیشنر میں اچانک شارٹ سرکٹ ہوا جس سے چنگاریاں نکلیں اور چند ہی سیکنڈز میں پورے ہال میں زہریلا دھواں بھر گیا۔ پب کا فرنٹ گیٹ آگ کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے اندر موجود سینکڑوں کسٹمرز میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے کچن اور باتھ رومز کے عقبی راستے کی طرف بھاگے جہاں دم گھٹنے اور جھلسنے کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔
بینکاک کے گورنر چاڈ چارٹ سٹھی پنٹ نے میڈیا کو بتایا کہ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ کر رہی ہیں اور اس بات کی سنگین تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ آیا پب کے اندر ایمرجنسی ایگزٹ (خروج کے ہنگامی راستے) بند یا بلاک تھے، جس کی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل سکے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دلدوز ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی پب کے مرکزی دروازے سے آگ کے شعلے باہر نکلے، کئی پبلک صارفین جن کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی، چیخ و پکار کرتے ہوئے سڑک کی طرف بھاگ رہے تھے۔ ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے زیادہ تر افراد مقامی تھائی باشندے ہیں جن کی عمریں 25 سے 50 سال کے درمیان ہیں، جبکہ آسٹریلوی اور لاؤشن سیاحوں کے بھی متاثر ہونے کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی سفارت خانے متحرک ہو گئے ہیں۔
