ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، دفاع کے لیے بھرپور جواب دیں گے: عباس عراقچی

برکس وزرائے خارجہ اجلاس: ایرانی وزیر خارجہ کا سفارت کاری پر زور؛ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو تعاون کرنے کی ہدایت

ویب ڈیسک 15 مئی 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ درپیش مسائل کا کوئی بھی فوجی حل موجود نہیں ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے ملک پر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ برکس (BRICS) وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران کی اولین ترجیح ہمیشہ سے سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی استحکام رہا ہے اور ایران کسی بھی صورت میں جنگ کا حامی نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ’غیر قانونی جارحیت‘ کی کھل کر مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے عالمی معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حساس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ یہ اہم بحری راستہ تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم امن پسند ہے، لیکن قومی مفادات یا خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تناؤ عروج پر ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں