آف پلان سیلز مارکیٹ پر چھا گئیں، اپریل میں 76 فیصد ٹرانزیکشنز ریکارڈ؛ کرایوں میں کمی سے مارکیٹ میں توازن آنے کا امکان
مشرقِ وسطیٰ میں جاری علاقائی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ نے غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرینِ معیشت اور حالیہ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق، حکومت کی نئی ویزا پالیسیوں، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو مندی سے بچا لیا ہے۔ حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ دبئی کی مارکیٹ اب تیزی سے بڑھنے کے مرحلے سے نکل کر ایک مستحکم اور متوازن دور میں داخل ہو رہی ہے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے خوش آئند ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، اپریل کے مہینے میں پراپرٹی کی کل ٹرانزیکشنز میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس دوران “آف پلان” (زیرِ تعمیر منصوبوں) کی فروخت کا غلبہ رہا، جو کل لین دین کا 76 فیصد رہی۔ سرمایہ کاروں کے اس جوش و خروش کی بڑی وجہ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے وہ اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق 2025 میں 760 ارب درہم مالیت کے ریکارڈ سودے ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ (لندن) جیسے روایتی مراکز میں ٹیکسوں کے اضافے اور سخت قوانین کی وجہ سے اب عالمی سرمایہ کار دبئی کو ایک محفوظ ترین ٹھکانہ تصور کر رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے تین بڑے اقدامات نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے:
ویزا قوانین میں نرمی: انویسٹر ویزا کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار درہم کی کم از کم حد ختم کر دی گئی ہے، جس سے اب کم بجٹ والے خریدار بھی رہائشی ویزا حاصل کر سکیں گے۔
میٹرو گولڈ لائن منصوبہ: 9 ارب ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ 15 اضلاع کو آپس میں جوڑے گا، جس سے ملحقہ علاقوں کی پراپرٹی قیمتوں میں 8 سے 11 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
کرایوں میں اعتدال: دو سال تک مسلسل اضافے کے بعد اب کرایوں میں 10 فیصد تک کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے متوسط طبقے کے لیے دبئی میں رہائش اختیار کرنا آسان ہو جائے گا۔
ماہرین نے خریداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال سے گھبرا کر اپنے سودے منسوخ نہ کریں، کیونکہ دبئی کی معیشت اب صرف تیل پر منحصر نہیں بلکہ سیاحت، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں تنوع کی وجہ سے انتہائی مضبوط ہو چکی ہے۔ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کا حالیہ استحکام ثابت کرتا ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا اس شہر کی طویل مدتی ترقی پر بھروسہ قائم ہے۔