کراچی ویب ڈیسک | 1 جون 2026
صومالی قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے 10 پاکستانیوں کی ایک اور دلخراش ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ پرائیویٹ جہاز ‘آنر 25’ کے عملے کے ان اراکین نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں بازیاب کروانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، ورنہ ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ویڈیو میں یرغمالی یاسر خان کو گدلے پانی کی بوتل ہاتھ میں تھامے انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 42 روز سے قید ہیں اور انسانیت سوز حالات میں گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ یاسر خان نے جذباتی انداز میں حکام سے مخاطب ہو کر اپنی زندگی کی بھیک مانگی اور کہا کہ اگر اب مدد نہ کی گئی تو وہ مزید زندہ نہیں رہ سکیں گے۔
ویڈیو میں یاسر خان نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس خوراک کی شدید کمی ہے اور انہیں 24 گھنٹوں میں صرف ایک بار معمولی سا کھانا یعنی ابلے ہوئے چاول دیے جا رہے ہیں، جبکہ پینے کے لیے بھی انتہائی آلودہ اور گدلا پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی قذاقوں سے مذاکرات کرنے کے بجائے مسلسل غلط بیانی سے کام لے رہی ہے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یاسر خان نے وزیرِاعظم پاکستان، صدرِ مملکت اور تمام متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ ذاتی مداخلت کر کے انہیں اس قید سے چھڑایا جائے اور بحفاظت ان کے گھر پہنچایا جائے۔

اس سے قبل بھی یرغمالی پاکستانیوں کی ایسی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں جن میں انہوں نے اپنی بدحالی کا ذکر کیا تھا، جس کے بعد سندھ اسمبلی میں بھی ان کی بازیابی کے لیے قراردادیں جمع کروائی گئی تھیں۔ تاہم، عملی اقدامات کے منتظر ان پاکستانی شہریوں کی مایوسی اب اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ قوم اور ان کے ورثاء ایک بار پھر حکومتی اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ ان 10 پاکستانیوں کو صومالی قذاقوں کی قید سے جلد بازیاب کروا کر واپس وطن لایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اس دلخراش ویڈیو کے بعد کیا فوری اور ٹھوس عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔
کراچی: خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار، ملزم باتھ روم سے ویڈیو بناتا تھا
”صومالیہ میں یرغمال 10 پاکستانیوں کی بازیابی کے لیے فریاد، ویڈیو میں دلخراش صورتحال کا انکشاف“ ایک تبصرہ