منشیات کیس میں پیش رفت: انمول عرف پنکی کے سہولت کاروں کی بینک تفصیلات عدالت میں جمع

کراچی ویب ڈیسک | 3 جون 2026

کوکین کی فروخت اور منشیات کے دھندے میں گرفتار مرکزی ملزمہ ‘انمول عرف پنکی’ کے خلاف جاری مقدمے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران پولیس نے ملزمہ کے اہم سہولت کاروں کے بینک اور ڈیجیٹل مالیاتی اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ اس رپورٹ میں ان مالیاتی ذرائع کا انکشاف کیا گیا ہے جن کے ذریعے منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی رقم کراچی اور دیگر شہروں کے درمیان منتقل کی جاتی رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، ملزمہ انمول عرف پنکی کے دو مبینہ سہولت کار، ذیشان الرحمان اور سہیل الرحمان، اس پورے نیٹ ورک کو آپریٹ کر رہے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذیشان الرحمان کے مختلف بینکوں میں متعدد اکاؤنٹس موجود ہیں، جبکہ سہیل الرحمان کے بھی کئی مالیاتی اداروں میں اکاؤنٹس ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ سہولت کار نہ صرف ان اکاؤنٹس کو آپریٹ کر رہے تھے بلکہ رقوم بھیجنے والے افراد کا ڈیٹا اور مالی لین دین کا مکمل ریکارڈ بھی ان کے زیرِ استعمال تھا۔

پولیس نے بینکوں کے نام، اکاؤنٹ نمبرز اور رقوم کی منتقلی کے دستاویزی ثبوت عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیے ہیں۔ عدالت نے پولیس کی پیش کردہ اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے مقدمے کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی ہے۔ یہ پیش رفت اس کیس میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے منشیات کے اس وسیع نیٹ ورک کی مالیاتی معاونت (Money Laundering) کے شواہد واضح ہوتے ہیں۔ تفتیشی ٹیم اب ان اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والی تمام ٹرانزیکشنز کا مزید جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس دھندے میں ملوث دیگر ممکنہ کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں