نجی کنسورشیم کے ٹیک اوور سے قبل پی آئی اے کا اہم امتحان، آئی اے ٹی اے کی ٹیم پاکستان پہنچے گی

کراچی (ویب ڈیسک) 4 جون 2026

نجی کنسورشیم کے ہاتھوں نجکاری اور ٹیک اوور کے اہم مراحل سے گزرنے والی قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کو اب ایک بڑے اور فیصلہ کن امتحان کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایئرلائن کے بین الاقوامی آپریشنز کی بحالی اور عالمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی ماہر ٹیم اتوار کے روز پاکستان پہنچ رہی ہے۔ یہ ٹیم 8 جون سے پی آئی اے کا سخت ترین ‘رسک بیسڈ’ سیفٹی آڈٹ شروع کرے گی، جو ایئرلائن کے تمام آپریشنل، تکنیکی اور انتظامی شعبوں کی جانچ پر مبنی ہوگا۔

اس آڈٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پی آئی اے کے معاملات میں اب نجی شعبے کی دلچسپی بڑھ چکی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں شامل کنسورشیم کے اہم رکن، عارف حبیب گروپ کی جانب سے بھی اس آڈٹ کے نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پی آئی اے اس آڈٹ میں کامیاب رہتی ہے، تو یہ نہ صرف عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں ایئرلائن کا وقار بحال کرے گا بلکہ نجی کنسورشیم کے لیے بھی ایئرلائن کی عملی باگ ڈور سنبھالنے اور اسے منافع بخش بنانے کا عمل آسان ہو جائے گا۔

پی آئی اے انتظامیہ نے اس امتحان میں مکمل کامیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاری شروع کر دی ہے۔ سی ای او پی آئی اے نے تمام متعلقہ شعبہ جات کے سربراہان کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے تمام ریکارڈز، فلائٹ سیفٹی مینوئلز، اور آپریٹنگ طریقہ کار کو آئی اے ٹی اے کے عالمی معیار کے مطابق فوری اپ ڈیٹ کریں۔ یہ آڈٹ نہ صرف ایئرلائن کی سیفٹی ریٹنگ کے تعین میں اہم ہوگا بلکہ نجکاری کے عمل میں شفافیت اور مستقبل کے کاروباری ماڈل کو مضبوط بنانے کے لیے بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں