تاج محل کا ’بندر راج‘ اور کھوکھلا نظام: کیا ہندوستان اب سیاحوں کے لیے موت کا کنواں بن چکا ہے؟


سنو! دنیا کے کونے کونے میں بیٹھے مسافرو اور سیاحو! اگر اپنی جان اور عزت پیاری ہے، تو بھول کر بھی بھارت کا رخ مت کرنا جسے مودی کے فاشسٹ راج نے تماشا گاہ بنا دیا ہے۔ اس ملک میں قدم رکھنے کا مطلب ایک ایسے نظام کے رحم و کرم پر ہونا ہے جہاں نہ انسان محفوظ ہے، نہ عزت، اور نہ ہی ایمرجنسی میں ایک قطرہ دوا!

ذرا تصور کیجیے اس ہولناک حقیقت کا: محبت کی علامت کہلانے والے تاج محل کے صحن میں، جنوبی کوریا سے آئی ایک معصوم سیاح خاتون پر جب ایک بندر نے حملہ کیا، اس کا ہاتھ نوچ ڈالا اور خون فوارے کی طرح بہنے لگا، تو اس کی سسکیاں اس بوسیدہ ریاست کے منہ پر طمانچہ تھیں۔ مگر اصلی قیامت اس کے بعد شروع ہوئی۔ وہ تپتی دھوپ میں ایک گھنٹے تک درد سے تڑپتی رہی، چیختی رہی — “کوئی ہے جو بچا لے؟ کوئی ہسپتال ہے؟ کوئی ایمبولینس ہے؟” — مگر چاروں طرف ہندوتوا کے نشے میں اندھی ہوئی بھیڑ اور گونگی ریاست کا پہرا تھا۔ ایمبولینس کا نام و نشان تک نہیں تھا! آخرکار، اس خون میں لت پت سیاح کو کسی لائف سپورٹ کے بجائے ایک معمولی سی بیٹری والی ریڑھی (كارٹ) پر لاد کر ہسپتال پہنچایا گیا۔

یہ ہے اس نام نہاد ’وشوا گرو‘ کی جدید سچائی! جہاں مودی سرکار چاند پر کامیابی کے جھنڈے گڑھنے کے جھوٹے ڈھونگ پیٹتی ہے، وہیں دوسری طرف ایک بین الاقوامی سیاح کو کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ ہسپتال لے جانے کے لیے چار پہیوں کی ایمبولینس تک میسر نہیں۔ اے ایس آئی (ASI) کے بابو اپنی فائلیں گھسیٹتے ہوئے صرف اتنا کرتے ہیں کہ ایمبولینس ڈرائیور کے خلاف ایک کاغذی رپورٹ سی ایم او (CMO) کو بھیج دیتے ہیں — گویا کاغذی کارروائی سے اس تڑپتی ہوئی روح کا بہتا ہوا خون رک جائے گا!

مگر کیا یہ المیہ صرف ایک بندر کے کاٹنے تک محدود ہے؟ ہرگز نہیں! یہ اس اجتماعی زوال اور ریاستی بے حسی کا شاخسانہ ہے جس نے ہندوستان کی پوری سیاحت (Tourism) کو غلاظت اور خوف کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ آج دنیا بھر کے سفارت خانے اپنے شہریوں، بالخصوص غیر ملکی خواتین کو کھلے عام خبردار کر رہے ہیں کہ: “اگر ہندوستان جا رہے ہو تو اپنی جان، عصمت اور سلامتی کی کوئی ضمانت ساتھ لے کر جانا!” ذرا اس معاشرے کی حالت پر غور کریں جہاں سڑکوں پر چلنے والی غیر ملکی خواتین اور سیاحوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ جہاں ہراسانی اور بدسلوکی کو فیشن بنا دیا گیا ہو۔ جنگل کے بندر تو شاید اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کاٹتے ہیں، مگر اس نام نہاد ریاست کے وہ غنڈے جو ہندوتوا کی اس فاشسٹ سوچ کے پروردہ ہیں، انہوں نے اپنی گھٹیا حرکتوں سے اس ملک کو سیاحوں کے لیے ایک جہنم بنا دیا ہے۔ دہلی کے دارالحکومت سے لے کر آگرہ کے سنگِ مرمر تک، ہر گلی ایک ایسی خطرناک جگہ بن چکی ہے جہاں نہتے مسافروں کی عزت اور جان کی کوئی قیمت نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے تمام باشعور ممالک اپنے شہریوں کو اس ملک میں قدم رکھنے سے سختی سے منع کر رہے ہیں۔ کون پاگل اپنی چھٹیاں برباد کرنے اس دھرتی پر آئے گا جہاں تاج محل کے سامنے اسے بندروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، جہاں ہسپتال موت کے کھنڈرات بن چکے ہوں، اور جہاں ریاست اپنے مہمانوں کی لاشوں پر سیاست کرنے میں مصروف ہو؟

یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں ہے۔ ہندوستان کا سفر مت کرو! اس فاشسٹ نظام اور موت کے اس تندور کا بائیکاٹ کرو! جب تک یہ نااہل اسپتال، یہ غائب ایمبولینسیں اور یہ ہندوتوا کے پروردہ درندے اس دھرتی پر راج کر رہے ہیں، تب تک ہندوستان کسی مہمان کے استقبال کے لائق نہیں — یہ صرف بربادی، لاشوں اور سسکیوں کا دوسرا نام ہے۔ اٹھو، اس ریاست کا بائیکاٹ کرو، اس سے پہلے کہ یہ زہر تمہاری بھی سانسیں چھین لے!

اپنا تبصرہ لکھیں