اسلام آباد (بزنس رپورٹر) پاکستان اور آذربائیجان کے مابین معاشی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (APJCCI) اور قصور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں خطوں کے تاجروں کو قریب لانا اور باہمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
معاہدے کے کلیدی مقاصد اور اہمیت
اے پی جے سی سی آئی کے سرپرست اعلیٰ، احسن ظفر بختاوری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان تجارت، جوائنٹ وینچرز اور کاروباری روابط کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان میں پاکستانی مصنوعات جیسے فوڈ پراڈکٹس، لیدر، کٹلری، ٹاولز، چاول، اور فٹ ویئر کی زبردست مانگ موجود ہے۔قصور: صنعتی اور زرعی مرکز کے طور پر ابھرتا ہوا نام،.قصور چیمبر کے صدر، کاشف نعیم کھوکھر نے ضلع قصور کی صنعتی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قصور اب ایک جدید صنعتی مرکز کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ:صنعتی نیٹ ورک: قصور میں 100 سے زائد ٹینریز، 600 سے زائد جوتا سازی کے یونٹس اور 1000 سے زائد کاٹیج انڈسٹری یونٹس کام کر رہے ہیں۔زرعی قوت: ضلع میں 150 سے زائد رائس ملز اور فوڈ پیکجنگ یونٹس موجود ہیں۔سیاحتی استعداد: پتوکی کی پھول منڈی، چنگا مانگا جنگل اور حضرت بابا بلھے شاہؒ کا مزار سیاحت کے فروغ کے لیے اہم اثاثے ہیں۔جدید سہولیات: 150 سے زائد کولڈ اسٹوریج سہولیات کی موجودگی فوڈ سپلائی چین اور برآمدات کو مضبوط بنانے میں مددگار ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل: مشترکہ وفود اور مارکیٹ اسٹڈی
اے پی جے سی سی آئی نے قصور کی کاروباری برادری کو اپنے آئندہ تجارتی وفد کے ساتھ آذربائیجان کا دورہ کرنے کی خصوصی دعوت دی ہے۔ یہ دورہ پاکستانی صنعتکاروں کو آذربائیجان کے خریداروں، درآمد کنندگان اور ڈسٹری بیوٹرز سے براہِ راست رابطے کا موقع فراہم کرے گا۔ کاشف نعیم کھوکھر نے کہا کہ قصور چیمبر اپنے ‘بزنس ریسورس سینٹر’ کے ذریعے آذربائیجان کی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کی برآمد بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔تقریب کے دوران جنید حسنین نے ضلع قصور کی صلاحیتوں پر تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں ہلدی، قصوری میتھی، اور سرخ مرچ جیسی زرعی مصنوعات کی برآمدی صلاحیت پر زور دیا گیا۔ سینئر نائب صدر حاجی محمد اکرم ذکی نے باکو میں سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی (ہوٹلنگ) کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب کا اختتام یادگاری شیلڈز اور تحائف کے تبادلے پر ہوا، جس میں دونوں چیمبرز کے سربراہان نے پاکستان اور آذربائیجان کی دوستی اور معاشی خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔