اسلام آباد (9 جون 2026) – پاکستان کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے اعلان میں تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ نیشنل اکنامک کونسل (NEC) کا اجلاس، جو بجٹ کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، وفاق اور صوبوں کے مابین مالیاتی امور پر عدم اتفاق کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر اب 10 جون کو متوقع بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی ناگزیر دکھائی دے رہی ہے۔
اجلاس میں تاخیر کی اصل وجہ
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کے مطابق، بجٹ سے متعلق چند اہم امور پر حتمی فیصلے ہونا ابھی باقی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں سے تقریباً 1700 ارب روپے کا حصہ چاہتی ہے، تاکہ دفاعی اخراجات اور ‘بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام’ جیسے اہم عوامی فلاحی منصوبوں کے مالی بوجھ میں صوبے بھی حصہ ڈال سکیں۔ اسی بنیادی تنازعہ اور سالانہ ترقیاتی بجٹ (PSDP) پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے سبب وزارتِ خزانہ اب تک حتمی اعداد و شمار آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ شیئر نہیں کر سکی ہے۔

بجٹ کی نئی تاریخ اور حکومتی کوششیں
اگرچہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے تاحال باضابطہ طور پر کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم قرائن بتاتے ہیں کہ وفاقی بجٹ اب 10 جون کے بجائے 12 جون 2026 کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے مابین اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں بھی عوامی ریلیف، معاشی شرحِ ترقی اور مالیاتی اہداف کو ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ معیشت کو استحکام کی جانب لایا جا سکے۔
ایران-امریکہ مذاکرات: اعتماد کی بحالی کے لیے تہران کا نیا اشارہ
دوسری جانب بین الاقوامی محاذ پر ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے بیان دیا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن کی جانب سے ’سنجیدگی‘ کا مظاہرہ کیا جائے تو تہران براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
بنیادی شرائط: تہران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ملک پر عائد معاشی پابندیوں کا خاتمہ مذاکرات کے لیے ان کی اولین اور ناگزیر شرائط ہیں۔مستقبل کی حکمتِ عملی: اقوامِ متحدہ میں ایران کے مندوب نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے متن پر بات چیت کا عمل جاری ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔