کراچی (ویب ڈیسک) 9 جون 2026
امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی ‘سسٹم’ کو اب گلگت بلتستان تک تحفے کے طور پر پھیلا دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومتی اتحاد پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام جماعتیں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں جو باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں کہ ‘انکل’ سے کتنا شیئر وصول کرنا ہے۔ انہوں نے فارم 47 والی حکومت کی کارکردگی کو صفر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حکمرانوں نے نہ صرف بنیادی منصوبے ادھورے چھوڑے ہیں بلکہ عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
بجٹ میں عوام پر بوجھ اور مافیاز کی سرپرستی
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ حکومت بجٹ میں مزید ٹیکسوں اور لیوی کے نفاذ کی تیاری کر رہی ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے چینی کی برآمد کے فیصلے کو شوگر مافیا کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں میں موجود یہ مافیا مل کر عوام کو لوٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی، معاشی پہیہ نہیں چل سکتا۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مقتدر اداروں میں شاہ خرچیاں اور کرپشن
امیر جماعت اسلامی نے ایف بی آر (FBR) جیسے اہم قومی اداروں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں، دوسری جانب حکومتی ادارے لگژری گاڑیوں کی خریداری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ اپنی عیاشیاں ختم کریں اور ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کریں۔ کراچی کے پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے فور (K-IV) منصوبہ تاحال ایک خواب ہے، جبکہ وفاقی اور سندھ حکومتیں اس اہم معاملے پر مجرمانہ غفلت برت رہی ہیں۔
بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی بازیابی کا مطالبہ
حافظ نعیم الرحمان نے بحری قذاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 17 پاکستانی شہریوں کی بازیابی کے لیے حکومت کی ناکامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان یرغمالیوں میں 10 کا تعلق کراچی سے ہے، جنہیں نہ کھانا مل رہا ہے اور نہ ہی پانی، جبکہ ان کے اہل خانہ اذیت میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ اس معاملے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام ہے اور اسے وفاق کا مسئلہ قرار دے کر جان چھڑا رہی ہے۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان شہریوں کی بازیابی کے لیے ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا کیونکہ یہ محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور موت کا سوال ہے۔