عقیل کریم ڈھیڈی کا معاشی انقلاب کا اعلان: ”پاکستان کا اچھا وقت آنے والا ہے، سرمایہ کار اپنا پیسہ وطن واپس لائیں“

کراچی (علیم نواب خان سے) 9 جون 2026

اے کے ڈی (AKD) گروپ کے بانی و چیئرمین اور ممتاز کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی نے ملکی معاشی صورتحال پر پرامید اظہار کرتے ہوئے پالیسی سازوں سے اپیل کی ہے کہ اب ملک کو رکاوٹوں سے پاک کر کے آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد دنیا بھر میں سرمایہ کار اب اپنے سرمائے کے لیے پاکستان کو سب سے محفوظ مقام سمجھ رہے ہیں۔ عقیل کریم ڈھیڈی نے یقین دلایا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی جانب گامزن ہے اور آنے والے دنوں میں کوئی بھی اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے جانے کی خواہش نہیں کرے گا۔

معاشی استحکام اور نیا سرمایہ کاری ماڈل
عقیل کریم ڈھیڈی نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اب پاکستان کی معاشی ترجیحات بدل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی ٹیکسٹائل سیکٹر کے بجائے اب سرمایہ کاری کا رخ ڈیری، لائیو اسٹاک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) جیسے شعبوں کی طرف موڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) بڑھ کر 440 بلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو ایسے وینچر فنڈز قائم کرنے چاہئیں جہاں نئے کاروباری آئیڈیاز رکھنے والوں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

رئیل اسٹیٹ میں تاریخی منصوبہ: ’آرکیڈینز‘ (Arcadians)
اپنے آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے ڈی ایچ اے (DHA) میں جاری اپنے میگا پروجیکٹ ’آرکیڈینز‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک بڑا اور تاریخی منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دراصل ڈیفنس کے اندر ایک اور جدید ڈیفنس شہر کی مانند ہے، جس میں 33 ٹاورز اور 143 کمرشل پلاٹس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں درپیش مشکلات کے باوجود انہیں اس پروجیکٹ کے لیے غیر معمولی رسپانس مل رہا ہے، جو پاکستان میں تعمیراتی شعبے کے روشن مستقبل کا غماز ہے۔

ایف بی آر کے اختیارات اور بجٹ کے اہداف
عقیل کریم ڈھیڈی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر وہ ایک سال کے لیے صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کی تجاویز پر عمل کرے تو ایف بی آر (FBR) کے تمام ریونیو اہداف آسانی سے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کے غیر ضروری اختیارات میں کمی کی جائے تاکہ کاروباری ماحول میں بہتری آ سکے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ اگرچہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث چیلنجنگ ہوگا، مگر اس میں کئی ایسی اچھی چیزیں سامنے آئیں گی جو عوام اور صنعتکاروں کے لیے سودمند ثابت ہوں گی۔

بجلی کا بحران اور صنعتی ترقی
ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور زائد پیداواری صلاحیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک حیرت انگیز تضاد ہے کہ جس ملک کے پاس سرپلس بجلی ہو وہاں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے قیام کے لیے بجلی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب صنعتیں لگیں گی اور بجلی کی ڈیمانڈ 35 سے 40 ہزار میگاواٹ تک جائے گی، تبھی بجلی کا شعبہ خود کفیل ہو سکے گا۔ انہوں نے ایل این جی کے معاہدوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی میکرز کو اب کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان ترقی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔

لیبر کی سستی اور ترسیلاتِ زر
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی لیبر دنیا میں سب سے سستی اور محنتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ترسیلاتِ زر (Remittances) میں کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی پیغام دیا کہ وطن کی محبت اور اپنی زمین پر سرمایہ کاری کا کوئی نعم البدل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ وقتی طور پر ملک سے باہر گئے، انہیں اب اندازہ ہو گیا ہے کہ اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں