کراچی (علیم نواب خان سے) 9 جون 2026 ء
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے فیڈریشن ہاؤس کلفٹن میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں ملک کے معاشی حالات، صنعتی ترقی اور انٹرپرینیور شپ کے مستقبل پر ایک جامع مشاورتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس اجلاس کی میزبانی ڈاکٹر زاہد حسن انصاری نے کی جو کہ پاکستان-کینیڈا بزنس کونسل کے چیئرمین اور ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر ہیں۔ اجلاس میں بزنس کمیونٹی کے سرکردہ رہنماؤں، سابق سفارت کاروں، سرکاری اداروں کے سربراہان اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ نجی شعبے اور حکومت کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کر کے ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔

اجلاس کا ایک اہم اور جذباتی پہلو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے ممتاز سماجی رہنما عابد لاشاری کا پرتپاک استقبال تھا۔ شرکاء نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ عابد لاشاری نے خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے جاری کاموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈاکٹر زاہد حسن انصاری نے اس شعبے میں اپنی کمیٹی کے کردار کو واضح کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ تجارتی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی بہبود کے منصوبوں کو فروغ دینا بھی ایف پی سی سی آئی کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ پسماندہ طبقات کو قومی دھارے میں شامل کر کے ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کی جا سکے۔

نشست کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے تجارتی مستقبل، برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کثیر الجہتی مسائل پر سیر حاصل بحث کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایف پی سی سی آئی کو ایک فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور حکومت کو ایسی پالیسیاں تجویز کرنی ہوں گی جو نجی شعبے کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کر سکیں۔ اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس طرح کے مشاورتی پلیٹ فارمز نہ صرف کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے بلکہ پاکستان کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو مستحکم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔