ہر بیماری میں نمبر ون بننے جا رہے ہیں: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی تشویشناک صورتحال پر پریس کانفرنس

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 11 جون 2026

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے جینیٹک پالیسی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں صحت کے شعبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بڑھتے ہوئے بیماریوں کے بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں صحت کا نظام ’بیماری کا نظام‘ بن چکا ہے اور ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔

آبادی کا دباؤ اور بیماریوں کا بوجھ
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2030 تک پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بن جائے گا۔ اس وقت ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر بیماریوں کے بوجھ کو کوئی بھی ملک برداشت نہیں کر سکتا۔ مصطفیٰ کمال نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر بیماری میں نمبر ون بننے کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت ہسپتالوں میں وبائی مرض جیسی صورتحال ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہمیں فوری اور انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔

ہیلتھ کیئر اب ایک قومی سلامتی کا مسئلہ
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر اب صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی سلامتی کا ایشو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روایتی علاج کے بجائے ہیلتھ کیئر کی جانب جانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے جینیوم پروفائلنگ (Genome Profiling) ناگزیر ہے۔ پاکستان ان بیماریوں پر سالانہ دو سے تین سو بلین روپے خرچ کر رہا ہے، جبکہ لوگ اپنی بیماریوں کی تشخیص کے لیے لاکھوں روپے خرچ کر کے بیرونِ ملک ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں۔

تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ
وفاقی وزیر نے تھیلیسیمیا جیسے موروثی امراض کے تدارک کے لیے ایک اہم ترین فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ لازمی قرار دینے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکریننگ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ملک بھر میں اسکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ان موروثی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

پہلی جینیٹک پالیسی اور نئی ٹیکنالوجی کا نفاذ
مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک جامع ‘جینیٹک پالیسی’ لانے جا رہی ہے جو ایک ماہ کے اندر عوام کے سامنے ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی سطح پر نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی رپورٹس کو اہمیت دینی ہوگی تاکہ ہم اپنے طبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر سکیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو ہیلتھ کیئر کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم ہو اور انہیں بروقت معیاری علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔وفاقی وزیر کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کا طبی انفراسٹرکچر مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جینیٹک پالیسی کے نفاذ اور شادی سے قبل ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کس حد تک ممکن ہو پاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں