لندن (احسن علیم نواب خان) 15 جون 2026
برطانیہ میں لندن کے اندر منعقد ہونے والے ایک متنازع اسرائیلی رئیل اسٹیٹ ایونٹ کے خلاف شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ 100 سے زائد برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے اس تقریب کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ اس تقریب کے اشتہارات میں سرمایہ کاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں میں زمین اور جائیداد خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا مشترکہ مؤقف
مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود زمینیں اور جائیدادیں بین الاقوامی قوانین کے تحت متنازع حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ایسی کسی بھی تقریب کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جس کے ذریعے غیر قانونی بستیوں کی تشہیر یا ان سے منسلک جائیدادوں کی فروخت کی جائے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے مطابق، فلسطینیوں کی زمینوں کو سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع کے طور پر پیش کرنا انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردِعمل
ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے (Amnesty International UK) نے بھی اس ایونٹ کے خلاف سخت آواز اٹھائی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے نازک وقت میں جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور وہاں جاری تشدد پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، اس قسم کی تقریب کا انعقاد انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ایمنسٹی کا موقف ہے کہ ایسی سرگرمیاں اُن کاروباری اور مالی مفادات کو تقویت دیتی ہیں جنہیں دنیا بھر میں متنازع اور غیر قانونی مانا جاتا ہے۔
متنازع بستیوں کی تشہیر پر عالمی بحث
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی علاقوں میں زمینوں کے قبضے اور اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ ہے۔ برطانیہ میں اس معاملے پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، اور انسانی حقوق کے حلقے اسے ایک اہم اخلاقی اور قانونی ٹیسٹ قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس تقریب کو روکا نہ گیا تو یہ برطانیہ کے اس موقف کو کمزور کرے گا جس میں وہ بین الاقوامی قانون کے احترام اور فلسطین میں دو ریاستی حل کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ برطانوی حکومت اس عوامی اور پارلیمانی دباؤ کے پیشِ نظر کیا لائحہ عمل اپناتی ہے اور کیا اس تقریب کے انعقاد کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا جائے گا۔
