کراچی کی سڑکوں پر موت کا رقص: قاتل ڈمپر بے لگام، ہنستا بستا خاندان اجڑ گیا 30 سالہ ثناء فاطمہ موقع پر ہی جاں بحق

کراچی 15 جون 2026

شہرِ قائد میں ٹریفک حادثات کا نہ تھمنے والا سلسلہ ایک اور ہنستے بستے خاندان کے لیے قیامت بن کر ٹوٹا۔ اتوار کے روز گھر سے کھانا کھانے کے لیے نکلنے والا خاندان سپر ہائی وے پر تیز رفتار ٹرک کی زد میں آگیا، جس کے نتیجے میں 30 سالہ ثناء زوجہ ماجد زندگی کی بازی ہار گئیں، جبکہ ان کے شوہر اور تین معصوم بچے زخمی ہو گئے۔

واقعہ کی تفصیلات
عثمان آباد (گارڈن) کے رہائشی عبدالماجد، جو آن لائن موٹر سائیکل رائیڈر کے طور پر محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے تھے، اپنی اہلیہ ثناء اور تین بچوں (روہان، ہمدان، اور محمد زوہان) کے ساتھ اتوار کی رات موٹر سائیکل پر الآصف اسکوائر کی جانب کھانا کھانے کے لیے جا رہے تھے۔ سہراب گوٹھ کے قریب رینجرز چوکی کے نزدیک عقب سے آنے والے ایک بے قابو اور تیز رفتار ٹرک نے ان کی موٹر سائیکل کو روند ڈالا۔

پولیس کارروائی اور مقدمہ
حادثے کے بعد سچل پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹرک ڈرائیور محمد علی ولد محمد صدیق کو گرفتار کر کے ٹرک (رجسٹریشن نمبر MLA-917) اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے شوہر عبدالماجد کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 942/2026 درج کر لی ہے۔ متوفیہ کی نمازِ جنازہ انڈہ موڑ کے قریب جامعہ مسجد بلال میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں کراچی کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

شہر میں ٹریفک حادثات کا بڑھتا ہوا گراف
اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر شہر میں ہیوی ٹریفک کی بے ہنگم رفتاری اور غفلت پر مبنی ڈرائیونگ کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد حسین کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اب تک ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 444 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 5 ہزار 194 سے زائد شہری زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف ڈمپر، ٹرالر، واٹر ٹینکر اور بسوں کی ٹکر سے اب تک 143 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

ورثا کا مطالبہ
سوگوار خاندان اور شہریوں نے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی مصروف شاہراہوں پر ہیوی ٹریفک کے اوقاتِ کار اور تیز رفتاری کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت حکمت عملی بنائی جائے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سنگین غفلت برتنے والے ڈرائیوروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مزید کسی گھر کا چراغ نہ بجھے۔

مزید پڑھیں:. کراچی: زمان ٹاؤن میں معمولی جھگڑا خونی تصادم میں تبدیل، خواتین سمیت متعدد افراد زخمی

اپنا تبصرہ لکھیں