A CCTV camera capturing a street crime scene with a motorbike in a Karachi neighborhood.

کراچی میں ڈاکوؤں کا انوکھا حربہ: گلشن غازی میں پولیس وردی میں ملبوس مسلح افراد شہری سے نئی 125 موٹرسائیکل چھین کر فرار!

کراچی (اسٹاف رپورٹر) 9 جولائی 2026

شہرِ قائد کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں پولیس وردی کا استعمال کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی ایک انتہائی حیران کن اور تشویشناک واردات سامنے آئی ہے۔ گلشن غازی میں پولیس کی آفیشل وردی میں ملبوس دو مسلح افراد ایک شہری سے اس کی بالکل نئی ہنڈا 125 موٹرسائیکل زبردستی چھین کر انتہائی باآسانی فرار ہو گئے۔ متاثرہ شہری وقار احمد نے واقعے کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج حاصل کرنے کے بعد کارروائی کے لیے مقامی تھانے میں باقاعدہ درخواست جمع کرا دی ہے اور ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وردی کی آڑ میں ڈکیتی کرنے والے ان عناصر کو فوری گرفتار کر کے ان کی بائیک برآمد کرائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ انوکھا واقعہ اتحاد ٹاؤن تھانے کی حدود گلشن غازی بلاک 1 میں پیش آیا۔ درخواست گزار وقار احمد نے بتایا کہ وہ علاقے میں واٹر فلٹر پلانٹ چلاتے ہیں اور جمعرات کی دوپہر انہوں نے اپنے ملازم مزمل کو مدرسے سے بچوں کو پک کرنے کے لیے اپنی نئی موٹرسائیکل دی تھی۔ ملازم بچوں کو لے کر جیسے ہی دکان کے سامنے پہنچا، وہاں پہلے سے گھات لگائے موٹرسائیکل سوار دو نامعلوم مسلح افراد پہنچ گئے جو پولیس کی مکمل وردی اور کیپ پہنے ہوئے تھے، جبکہ چہرے چھپانے کے لیے انہوں نے ماسک کا استعمال کر رکھا تھا۔ ان نقلی یا لٹیرے اہلکاروں نے ملازم کو ہراساں کیا اور بائیک کی چابی زبردستی چھینتے ہوئے رعب جمایا کہ “موٹرسائیکل کے سلسلے میں مدینہ کالونی تھانے آ جاؤ، وہاں پر ہی بات ہوگی” اور بائیک لے کر رفو چکر ہو گئے۔

متاثرہ شہری وقار احمد کے مطابق، جب وہ گھبراہٹ میں فوری طور پر مدینہ کالونی تھانے پہنچے تو وہاں موجود ڈیوٹی افسران نے یہ کہہ کر صاف پلہ جھاڑ لیا کہ ان کے تھانے کا کوئی بھی عملہ اس علاقے میں گشت پر نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس اس حلیے کے کوئی اہلکار موجود ہیں۔ اس کے بعد جب شہری قانونی کارروائی کے لیے اصل جائے وقوعہ کے متعلقہ تھانے ‘اتحاد ٹاؤن’ پہنچا، تو وہاں بھی روایتی ٹال مٹول کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے گھنٹوں انتظار کروایا گیا اور محرر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس ایچ او (SHO) کے تھانے آنے کے بعد ہی باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ شہری کی جانب سے پولیس کو فراہم کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وردی پوش لٹیرے ملازم سے چابی جھپٹنے کے بعد ایک بائیک پر اور دوسرا چھینی گئی نئی 125 بائیک پر الگ الگ راستوں کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔ شہریوں نے آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ پولیس وردی میں اس طرح کی وارداتیں محکمے کی بدنامی کا باعث ہیں، لہٰذا اس گینگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں