Peshawar police personnel standing outside a local police station after solving a murder case.

ممانی سے مبینہ تعلقات پر بھانجے نے ماموں کو گولیوں سے بھون ڈالا، آلہ قتل سمیت 2 ملزمان گرفتار!

پشاور (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے میں غیرت اور غیر قانونی تعلقات کی بھینٹ چڑھنے والا ایک سنسنی خیز اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سگے بھانجے نے اپنی ممانی کے ساتھ مبینہ ناجائز تعلقات کے تنازع پر اپنے ہی ماموں کو بے دردی سے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق، پشاور کے تھانہ متھرا کی حدود میں 10 روز قبل پیش آنے والے اس اندھے قتل (Blind Murder) کے واقعے نے پورے علاقے میں سسپنس اور خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس پی ورسک ڈویژن محمد ارشد خان اور ڈی ایس پی ورسک سرکل ارباب نعیم حیدر کی خصوصی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ متھرا صدام ریاض نے تفتیشی افسران پر مشتمل ایک ہائی پروفائل ٹیم تشکیل دی، جس نے جدید سائنسی خطوط اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے دن رات تفتیش کرتے ہوئے اس لرزہ خیز قتل کا معمہ کامیابی سے حل کر کے مرکزی ملزم کو اس کے قریبی ساتھی سمیت دھر لیا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق، مدعی مقدمہ فضل الرحمان نے مورخہ 27 جون 2026 کو تھانہ متھرا میں اپنے بھائی مقتول عبدالرحمان کے سفاکانہ قتل کی رپورٹ درج کروائی تھی، جس میں کسی بھی ملزم کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے جب مقتول کے قریبی رشتہ داروں اور موبائل ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تو کڑیاں سگے بھانجے فیصل ولد شمشاد سے جا ملیں۔ دورانِ حراست سخت تفتیش کے دوران ملزم فیصل نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے ہوشربا انکشاف کیا کہ اس کے اپنی ممانی کے ساتھ طویل عرصے سے مبینہ تعلقات استوار تھے، جس کا ماموں عبدالرحمان کو علم ہو چکا تھا اور وہ اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا تھا۔ ملزم نے بتایا کہ اس نے اپنے ماموں کو ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹانے کا خوفناک منصوبہ بنایا اور موقع ملتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا تاکہ کوئی اس پر شک نہ کر سکے۔

پولیس حکام نے پریس کانفرنس کے دوران کیس کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس گھناؤنے جرم میں ملزم فیصل کو اس کے قریبی دوست یوسف ولد شجاعت کی مکمل سہولت کاری حاصل تھی۔ ملزم نے واردات میں استعمال ہونے والا نائن ایم ایم (9mm) پستول اپنے اسی دوست یوسف سے مستعار لیا تھا، جس نے قتل کی پلاننگ اور مقتول کی ریکی کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے آلہ قتل (پستول) برآمد کر لیا ہے، جبکہ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خاندان اور محلے کے کچھ دیگر افراد نے بھی اس معاملے کو چھپانے اور ملزم کو فرار کروانے میں سہولت کاری کی تھی جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تھانہ متھرا پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کو ریمانڈ کے لیے انسدادِ دہشت گردی یا مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان سے مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں