Police officers investigating a crime scene inside a building flat in Karachi.

کراچی: “قتل کے بعد بھی جنسی زیادتی کی”، لی مارکیٹ کے 6 سالہ ولی کے قاتل حمزہ کے لرزہ خیز اعترافات، لاش الماری میں چھپائے رکھی!

کراچی (کرائم رپورٹر) 9 جولائی 2026

شہرِ قائد کے علاقے لی مارکیٹ میں 6 سالہ معصوم عبدالولی کے اغوا اور سفاکانہ قتل کے کیس میں انتہائی ہولناک، لرزہ خیز اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کی حراست میں موجود درندہ صفت مقتول کے پڑوسی ملزم حمزہ نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کرتے ہوئے ایسے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جس نے تفتیشی افسران کے بھی رونگٹے کھڑے کر دیے۔ سفاک قاتل نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے نہ صرف بچے کو بدفعلی کے بعد بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا بلکہ قتل کرنے کے بعد بھی معصوم کی لاش کو اپنی حوانیت اور جنسی درندگی کا نشانہ بناتا رہا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کو آج سخت سیکیورٹی میں جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے مقامی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ملزم کا سابقہ کرمنل ریکارڈ اور ماضی میں دیگر بچوں کے ساتھ ایسی گھناؤنی وارداتوں میں ملوث ہونے کے پہلوؤں پر بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

ملزم حمزہ نے پولیس کے سامنے اپنے بھیانک جرم کی تفصیلات بتاتے ہوئے اگل دیا کہ مقتول بچہ ولی اسے اپنے چچا کی طرح مانتا تھا کیونکہ وہ اسے اکثر دکان سے چیزیں دلاتا رہتا تھا۔ پیر کے روز محلے میں ایک شخص کا انتقال ہوا تھا اور ولی کے گھر والوں سمیت تمام اہل علاقہ جنازے اور تعزیت میں مصروف تھے۔ ملزم نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور معصوم ولی کو بہلا پھسلا کر اپنے فلیٹ میں لے گیا جہاں اس نے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ ملزم کے بقول: “بچہ مجھے اچھی طرح پہچانتا تھا اور سب کو بتا دیتا، اسی لیے میں نے اس کا گلا دبا کر اسے قتل کر دیا، لیکن قتل کرنے کے بعد بھی میں نے دوبارہ اس کے ساتھ زیادتی کی”۔ درندے نے واردات کے بعد معصوم کی لاش کو بوری میں بند کیا، کمبل میں لپیٹا اور اپنے کمرے کی الماری کے اندر چھپا دیا۔ حیران کن طور پر پولیس نے شک پڑنے پر فلیٹ کی تین مرتبہ تلاشی لی مگر الماری میں کپڑوں کے پیچھے چھپائی گئی لاش کو پہلی نظر میں برآمد نہ کیا جا سکا۔

تفتیشی حکام کے مطابق، جب محلے کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج چیک کی گئی تو معلوم ہوا کہ بچہ گلی سے باہر گیا ہی نہیں تھا، جس پر اہل محلہ کا شک ملزم حمزہ پر گہرا ہوتا گیا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ جب اس نے دیکھا کہ گلی کے لوگ اس پر نظریں رکھے ہوئے ہیں تو وہ شدید خوفزدہ ہو گیا اور شک دور کرنے کے لیے خود بھی ولی کے والد کے ساتھ مل کر بچے کو ڈھونڈنے کا ناٹک کرتا رہا۔ بدھ کی شب جب خوف کے مارے اس کا ہولڈ ختم ہوا تو اس نے الماری سے بوری نکال کر فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے خالی پلاٹ میں پھینک دی، جس کی آواز سن کر اہل محلہ نے اسے تیسری منزل پر گھیر لیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے الزام میں ملزم کے والد کو بھی تحویل میں لے رکھا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سزا سے بچنے اور تفتیش کا رخ موڑنے کے لیے واردات میں دیگر ساتھیوں کی شمولیت کا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے، وہ اس گھناؤنے جرم میں اکیلا ہی ملوث تھا۔

کراچی میں درندگی کی انتہا، 6 سالہ معصوم محمد ولی زیادتی کے بعد قتل، سفاک پڑوسی نے بوری بند لاش تیسری منزل سے نیچے پھینک دی!

دوسری جانب، پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید نے مقتول ولی کے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے انتہائی اہم طبی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کی شب جب معصوم کی لاش ہسپتال لائی گئی تو وہ کافی پرانی ہونے کی وجہ سے گل سڑھ چکی تھی۔ ابتدائی طبی معائنے کے دوران بچے کے سر پر شدید فریکچرز (ہڈیوں کے ٹوٹنے) اور گردن پر رسی یا ہاتھوں سے گھونٹنے کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر سمعیہ سید نے تصدیق کی کہ مقتول کے جسم سے بدفعلی اور جنسی زیادتی کے حتمی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مختلف ڈی این اے (DNA) اور دیگر طبی سیمپلز لے لیے گئے ہیں، جبکہ موت کی حتمی وجہ کا آفیشل تعین کرنے کے لیے معصوم کے اندرونی اعضاء کو کیمیائی تجزیے (Chemical Analysis) کے لیے لیبارٹری محفوظ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی کیمیکل ایگزامنر کی تفصیلی رپورٹ موصول ہوگی، جنسی زیادتی اور قتل کی سائنسی تصدیق عدالت کے سامنے پیش کر دی جائے گی تاکہ اس سفاک قاتل کو کڑی سے کڑی سزا دلائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں