کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) 29 جون 2026
بھارتی شہر پونے کی ایک خصوصی عدالت نے انسانیت سوز درندگی کے مقدمے کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 3 سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد ازاں اس کے بے رحمانہ قتل کے جرم میں 65 سالہ بوڑھے مجرم بھیم راؤ کامبل کو سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالت نے اس ہولناک ترین جرم کو قانونی زبان میں ’’نایاب ترین (Rarest of Rare)‘‘ کیس قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ ایک ایسا سفاکانہ فعل ہے جس نے نہ صرف عدالت بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہ تاریخی اور عبرتناک فیصلہ پونے کے معزز ضلع و سیشن جج ایس آر سلونکھے نے تفصیلی سماعت کے بعد سنایا۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ (پراسیکیوشن) نے سزائے موت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 12 اہم ترین تاریخی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مضبوط مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کسی بھی قسم کی رعایت یا نرمی کا مستحق نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق، عدالت نے تمام گواہان اور سائنسی شواہد کی روشنی میں چند روز قبل ہی ملزم پر اغواء، چھیڑ چھاڑ، زنا بالبرابر اور قتل کے سنگین الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کرتے ہوئے اسے مجرم قرار دے دیا تھا، جس کی سزا کا اعلان آج کیا گیا ہے۔
| کیس کے اہم حقائق اور تفصیلات | عدالتی کارروائی اور پسِ منظر |
| مجرم کا نام اور عمر | بھیم راؤ کامبل (عمر 65 سال)۔ |
| واقعے کی تاریخ اور جگہ | یکم مئی کو بھارتی شہر پونے کے ایک مویشیوں کے باڑے میں پیش آیا۔ |
| طریقۂ واردات | بچی کو کھانے کی چیزوں کا لالچ اور بچھڑا دکھانے کے بہانے اغوا کیا۔ |
| اہم ترین ثبوت | علاقے کے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے کی فوٹیج، جس میں ملزم بچی کو لے جاتا دکھا۔ |
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ رواں سال یکم مئی کو پونے کے مضافات میں پیش آیا تھا، جہاں 65 سالہ بھیم راؤ کامبل نے معصوم بچی کو اکیلا دیکھ کر اسے کھانے پینے کی اشیاء کا لالچ دیا اور ایک نومولود بچھڑا دکھانے کا بہانہ بنا کر اپنے ساتھ مویشیوں کے باڑے میں لے گیا، جہاں اس نے بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر بے رحمی سے قتل کر دیا۔ بچی کے لاپتہ ہونے پر جب گھر والوں نے تلاش شروع کی تو باڑے سے اس کی تشدد زدہ لاش ملی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا۔ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے مطابق جج نے اپنے ریمارکس میں لکھا کہ 65 سال کی عمر میں بھی ملزم کی ہوس ختم نہیں ہوئی تھی اور اس نے بغیر کسی پچھتاوے کے یہ جرم کیا، کیونکہ وہ ماضی میں بھی ایک جنسی جرم کے مقدمے سے بچ نکلنے کے باعث بے خوف ہو چکا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے ناسور کا خاتمہ ہی انصاف کا تقاضا ہے۔
